اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بھارتی پولیس نے فینز کو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے سے روک دیا

بھارتی پولیس نے فینز کو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے سے روک دیا

بھارتی پولیس نے فینز کو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے سے روک دیا

بھارتی پولیس نے فینز کو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے سے روک دیا

بھارتی پولیس نے فینز کو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے سے روک دیا

پاکستان اور آسٹریلیا کے میچ میں پاکستان اور پاکستانیوں سے بھارتیوں کے شدید تعصب کی جھلک ایک بار پھر اس وقت نظر آئی جب بھارتی سیکیورٹی اہلکار نے پاکستانی فینز کو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے سے روک دیا۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاک آسٹریلیا میچ کے دوران اسٹیڈیم میں ایک نوجوان پاکستانی ٹیم کی شرٹ پہنے بیٹھا ہوا ہے اور سامنے کھڑے پولیس اہلکار سے بحث کررہا ہے کہ وہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ کیوں نہیں لگا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں آسٹریلیا نے پاکستان کو 62 رنز سے شکست دے دی

نوجوان کے ساتھ بیٹھا کوئ شخص یہ ویڈیو بنارہا ہے جس میں بھارتی پولیس اہلکار نوجوان کو منع کرتا ہے

https://www.instagram.com/reel/Cyn3VkFM9Q3/?utm_source=ig_web_copy_link

کہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ نہ لگائے،اس پر نوجوان اس سے کہتا ہے کہ پاکستان کا میچ ہورہا ہے،

ہم پاکستان سے آئے ہیں تو پاکستان زندہ باد کا نعرہ نہیں لگائیں گے کیا کہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں  ورلڈکپ 2023،شاہین آفریدی نے اب تک کا اہم اعزاز حاصل کرلیا

بعدازاں نوجوان اپنا موبائل فون نکال کر پولیس اہلکار سے کہتا ہے کہ وہ کیمرے کے سامنے

یہی بات کہے کہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ نہیں لگایا جاسکتا ہے،

جس پر مذکورہ اہلکار اپنے افسر کو بتانے کا کہہ کر وہاں سے جانے لگتا ہے۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481