اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟

13 سالہ عبدالمعیز کی والدہ انصاف کی آس لیے خالقِ حقیقی سے جا ملی

مری کے علاقے لوئر دیول تھانہ پھگواڑی کی حدود میں 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ حل ہو گیا۔

عبدالمعیز قتل کیس میں 2 سہولت کاروں سیمت 4 ملزمان شامل تھے مرکزی ملزم محمد آصف عرف ماسٹر حجام کو شور کوٹ ضلع جنگ سے گرفتار کیامقدمے میں مین رول عبدالمعیز کے چچا کی بیٹی حوریں کا رہا سید فیصل شاہ ولد مقبول سکنہ دیول مری اورمحمد عدیل ولد محمد اسماعیل سہولت کار رہے ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان نے باہم ساز باز کر کے نہایت بے دردی سے عبدالمعیز کو قتل کیا۔

 

مزید انکشاف ہوا کہ مرکزی ملزمہ، جو کہ مقتول کی چچا زاد بہن ہے، نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس اندوہناک واردات کو انجام دیا۔ڈی پی او مری کا کہنا تھا کہ عبدالمعیز قتل کیس کے حوالے سے کچھ ایسی چیزیں ہیں جو میڈیا پر بتا نا مناسب نہیں ملزمان کی شناخت جیو فینسنگ سے ہو چکی تھی تاہم مزید شواہد کے لیے ڈین این اے بھی کروائے گئے کیس کی نوعیت کو مد نظر رکھتے ہوئے شواہد جمع کر نا ضروری تھا جس وجہ سے ملزمان کی گرفتاری میں تاخیر ہوئی پولیس قتل کیس میں کبھی بھی غلط بندے کو چالان نہیں کرتی اکثر مدعیان کی جانب سے دشمنی کی بنا پر بہت سے لوگوں کو نامزد کرواتے ہیں جو کہ سب قتل میں شامل نہیں ہوتے۔

پولیس تفتیش کے ذریعے اصل بندے تک پہنچتی ہےعبدالمعیز قتل کیس ایک چیلنج تھا 100دن گزر گئے عبدالمعیز ہم میں نہیں 11 فروری کو عبدالمعیز کی گمشدگی کی رپورٹ درج ہوئی 12 فروری کو مقتول کے گھر سے کچھ فاصلے پر ایک زیر تعمیر مکان سے ملی جسے تشدد کے بعد گلے میں پھندہ ڈال کر لٹکا دیا گیاتھا لواحقین کی جانب سے نامعلوم ملزمان کے خلاف تھا نہ پھگواڑی میں ایف آئی آر درج کر ائی گی جس پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر مقتول کی فیملی سمیت 55 افراد کو شامل تفتیش کرتے ہوئے 25 کے ڈ ی این اے ٹیسٹ کر وائے جن میں مقتول کی قریبی رشتے دار سمیت ایک ملزم کے فارنزک رپورٹ میچ کر گئی جو پر ملزمان کو واقع کے 3 ماہ بعد حراست میں لیا گیا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481