اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے

WhatsApp Image 2026 05 07 at 10.33.03

کوہسار مری اور اس کے اطراف میں آباد ڈھونڈ ،ستی، کیٹھوال، دھنیال، سادات، گجر، مغل اور دیگر قبائل صدیوں سے مری کے جنگلات سے گھرے پہاڑوں میں قبائلی اور نیم قبائلی انداز سے زندگی بسر کرتے رہے ہیں۔یہاں پر زندگی گزارنے کا فن کچھ تو فطرت نے انہیں اپنے الوہی طریقوں سے ودیعت کیا اور زندگی گزارنے کے کچھ گر انہوں نے خود اپنی ہمت کاوش اپنے تجربے اور مشاہدے سے سیکھے۔ ان حاصل شدہ مہارتوں کی روشنی میں انہوں نے مشکل وقتوں میں برف باری، تنہائی ،خوف ،کم آبادی اور محدود وسائل کے ساتھ زندگی اس شان سے گزاری کہ آج ہم اپنے آباؤ اجداد پر فخر کرتے ہیں۔

اس زمانے میں نہ مسلکی تقسیم تھی، نہ مذہبی شدت پسندی تھی اور نہ ہی عورت کو کسی طرح سے کم تر درجے کی مخلوق گردانا جاتا تھا۔ گلہ بانی، کھیتی باڑی اور گھرداری کے تمام کاموں حتیٰ کہ گھر بنانے کے عمل میں عورت برابر کی شریک تھی، اس لیے گھر بسانے کی اور گھر کی حفاظت کے ذمہ داری مرد سے زیادہ عورت پر عائد ہوتی تھی، چونکہ وہ تنکا تنکا جوڑ کر اپنے کچے گھروں کو بنانے، انہیں سنوارنے بسانے اور ان کی آبادی اور عزت کی ضامن بھی ہوتی تھی۔

جوں جوں وقت گزرتا گیا اور سہولتیں ملتی گئیں اور لوگوں نے قدرے آسان زندگی گزارنی شروع کی تو یہ ذمہ داری بڑھتے بڑھتے صرف مرد کی طرف آگئی اور عورت کو ہمارے معاشرے میں ایک اضافی مخلوق کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
اس سے نقصان یہ ہوا کہ زندگی کی وہ گاڑی جو خراماں خراماں آگے بڑھ رہی تھی اس میں تیزی تو آگئی لیکن تنوع کم ہو گیا ۔اس کی رفتار تو بڑھ گئی لیکن زندگی کی گاڑی کی اندرونی حالت پر سوالیہ نشان اٹھنے لگے۔آج جب ہم دیکھتے ہیں کہ مری اور اس کے اطراف میں زندگی کا رخ بدل رہا ہے تو اس کا سبب عورت یا نو عمر بچیاں نہیں ہیں یا ان کی تعلیم اور لباس نہیں، بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ ہم نے قدیم اور آزمودہ طرز زندگی کو یک لخت چھوڑ دیا ہے۔گاؤں سے ہم نےشہروں میں یا شہروں کے قرب و جوار میں سکونت اختیار کر لی ہے۔گاؤں کی زمینیں بنجر ہو گئی ہیں، کھیتی باڑی مکمل طورپرختم ہو چکی ہے۔

گاؤں میں زراعت، باغبانی ،گلہ بانی اور مل کر زندگی گزارنے کے جتنے بھی طور طریقے تھے وہ سارے کے سارے ختم ہو چکے ہیں نتیجتاً ہماری زندگی میں مصنوعی پن اور نقالی آگئی ہے اور ہمارے ہاں سچائی اور حقیقت کہیں پردوں کے پیچھے چھپ گئی ہے۔

اج جب ہم دیکھتے ہیں کہ مری کے لوگ مری کے اطراف میں بالخصوص مری کی وہ ڈھلانیں جو پنڈی اسلام آباد کی طرف ہیں، جب ان ڈھلانوں کے لوگ پراپرٹی ڈیلروں کے مشوروں میں آکر اپنی زمینیں بیچتے ہیں تو پورے ملک پنجاب سمیت چاروں صوبوں اور کے پی کے سے انویسٹر اور نو دولتیے آکر جب یہ زمینیں لیتے ہیں اور ان پر تعمیرات کرتے ہیں، تب انکی اولادیں یہاں پر آکر رہتی ہیں تو ان کا ہماری مقامی آبادیوں پر اثر پڑنا بالکل ایک فطری بات ہے۔اس اثر پذیری میں مرد اور خواتین کا کوئی واضح فرق نہیں ہے ہماری نوجوان نسل کے لڑکے اور لڑکیاں یکساں طور پر اس سے اثر قبول کر رہے ہیں۔ نہ صرف نوجوان بلکہ ہمارے بوڑھے مرد و زن اور بچے بھی اس کے اثرات قبول کیے بغیر نہیں رہ سکتےچونکہ یہ ایک فطری امر ہے.ایسے میں جب ہمارے خاندانی نظام کے تارو پود بکھر رہے ہیں ،ان حالات میں جرائم کی شرح بڑھنا قابل فہم ہے۔پھر جب سے مری کو تحصیل سے زیادہ ایک میٹروپولیٹن مرکز کا درجہ ملا ہے، نیز حال ہی میں اسے ضلع کا درجہ بھی دے دیا گیا ہے تو ضلعی ملازمین، لاء انفورسمنٹ اور دیگر محکموں کے ملازمین کی تعداد,کرائے پر رہنے والوں کی تعداد اور اسکے نتیجے میں سروسز اور خدمات فراہم کرنے والے کاریگر دستکار لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس صورت میں غیر مقامی لوگوں کا تناسب بھی بڑھا ہے۔

ایسے میں اگر مری اور اس کے مضافات کوہسار کے علاقوں میں قتل جیسے سنگین جرم کے وقوع پذیر ہونے کے ڈانڈے عورتوں بچیوں، ان کے طرز بود وباش، ان کی تعلیم یا ان کی تصاویر سے جوڑ کر کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرنے والی روش اختیار کرلینا قرین عقل و انصاف نہیں۔

گزشتہ کچھ عرصہ یعنی ایک سو سال یا سوا سو سال میں مذہبی تحریکات نے یہاں پر بہت اثر ونفوذ حاصل کیا ہے۔ہمارے لوگ ہمارے پہلے بھی دین دار تھے لیکن مذہبی تحریکات نیز مدارس اور جو مساجد کی تعداد میں جو اضافہ ہوا ہے تبلیغ دین کے لیے مختلف جو مختلف جماعتیں نکلتی ہیں ان کی کارگزاری میں بہت اضافہ ہوا ہے۔لیکن اس سب کے باوجود اگر جرائم پیشہ افراد کی تعداد یا جرائم بڑھ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ لیا جانا چاہیے کہ ہماری دینی اور مذہبی کاوشیں کسی مقصد پر پہنچنے میں ناکام رہی ہیں۔ بلکہ ان کا مرکز معاشرے کے ان طبقات ہونے چاہیں جو اس روش کو روکنے میں فعال کردار ادا کر سکیں۔گویا ہماری تبلیغی اور اصلاحی کوششوں کا پھل جن طبقات تک پہنچنا چاہیے نہیں پہنچ رہا ۔

حال ہی میں لوئر دیول میں معیز واجد قتل کیس جس کے قاتل تین ماہ کے بعد گرفتار ہوئے، اس کے تانے بانے جس طرح ملے ہیں تو یہ پہلے دن سے واضح تھا کہ اس نوعمر اور نابالغ بچے نے کسی جرم کو ہوتے دیکھا اس کا وہ عینی شاید بنا تو نتیجتاً اسکی جان لے لی گئی تاکہ وہ گواہی نہ دے سکے۔الحمدللہ پولیس اور ایجنسیوں کی ٹارگٹڈ کارگزاری سے مجرم پکڑے جا چکے ہیں۔
لیکن ایسے میں صرف نو عمر بچیوں اور خواتین پر اس طرح کے حرکات کی ذمہ داری ڈال کر آگے بڑھ جانا اور خود کو بری الزمہ سمجھنا کوئی پسندیدہ طریقہ کار نہیں ہے۔ہمیں دیکھنا ہوگا کہ معاشرے میں وہ کون سی قدریں تھیں جنہوں نے ہمارے ماضی اور اباؤ اجداد کی زندگی کو رونق رحمت برکت اور مضبوطی عطا کی تھی۔وہ ان کا عمل تھا زمین سے،قدروں سے اور ایک دوسرے سے جڑے رہنا اور انسانوں کو اہمیت دینا۔۔آج یہ قدریں ہم سے اٹھ گئی ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کریں، گاؤں کی زندگی جس کی متقاضی ہے۔
سادگی سے رہنا سہنا،اپس میں ملنا جلنا اور باہمی خاندانی رشتوں کا احترام اور انکی مضبوطی۔ یہاں پر ایک بات یاد رہے کہ کوہسار مری میں جتنا خواتین کا احترام ہے ان کی پردہ داری کا اور بحثیت بیٹی بہن اور ماں اور دیگر خاندانی اور سماجی مراتب کا پاس اور لحاظ ہے نیز تمام حیثیات میں جس طرح ان کی قدر کی جاتی ہے، ملکی معاشرے میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ ہماری نوجوان نسل اور بچے بھی انتہائی ادب والے ہیں تو کسی بھی استثنائی صورتحال کو مثال بنا کر کوئی حکم جاری کرنا ہمارے لیے مناسب نہیں۔

ہماری دانست میں بچیوں کا یونیورسٹی پڑھنا اور کانوکیشن کے موقع پر تصویر بنانا یا بچیوں کا خوشی کے موقع پر سٹیٹس لگانا یا اس طرح کے دیگر واقعات اپنی ماؤں بہنوں یا خالاؤں کے ساتھ خریداری کے لیے جانا اس میں کوئی ایسی قباحت والی بات نہیں ہےجس کا جھنڈا لہرایا جائے۔
ان تمام باتوں کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنےطرز بودوباش,آبا و اجداد کے طریقہ کار اپنی دینی اور مذہبی روایات اور اپنی قبائلی زندگی کی بنیادی اوصاف کا پھر سے احیا کریں۔ جدید ہونااور اچھے گھر بنانا کوئی برائی نہیں ہے لیکن جدید طرز بود و باش اختیار کرتے ہوئے شہروں میں جا کر پھنس جانا اور ایسے شہری کلچر کو پروان چڑھانا جو جرائم کا سبب بن سکتا ہو اس کی کلی ذمہ داری نئی نسل کی بچیوں بیٹیوں طالبات اور خواتین پر ڈالنا اور مردوں کو اس سے مکمل طور پر مبرا قرار دینا کوئی پسندیدہ روش نہیں ہے ۔ہمیں اپنے طرز فکر اور طرز حیات پر بھی سوچنا چاہیے اور جو نقصان ہو چکا ہے اس کو کافی جانتے ہوئے مزید نقصانات سے بچنے کے لیے واپس اپنی بنیادوں کی طرف لوٹنا ہے تاکہ ہماری زندگی پھر پرامن،جرائم اور خطرات سے پاک ہو سکے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481