Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جونکیں

جونکیں

محبت حسین اعوان

پہاڑی سے ترجمہ: راشد عباسی

پوری دنیا سےتخصُّص کے حامل طبّی ماہرین اور لیبارٹری کے شعبے میں کمال رکھنے والے عملے کی جدید ترین مشینوں کی معیّت میں ایک مقام پر موجودگی اس بات کی غمّاز تھی کہ معاملہ بے حد نزاکت کا حامل ہے۔

بڑے بڑے طبّی ماہرین نے کمزور اور بیمار مریضوں کا معائنہ شروع کیا۔ ایک ایک مریض پر کئی کئی گھنٹے صرف ہونے لگے۔۔ طبی ماہرین کا چیلنج تھا کہ وہ ہر مریض کی بیماری کی درست ترین تشخیص کر کے اس کے مرض کا مستقل علاج تجویز کریں گے۔

مریضوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔۔ کچھ مریض تو ایسے تھے کہ طبی ماہرین نے صرف چند مشورے دے کر انھیں رخصت کر دیا۔ کچھ مریضوں کو بصارت کے مسائل تھے۔ انھیں مشورہ دیا گیا کہ وہ صحیح نمبر کی عینک استعمال کریں۔ کچھ کے معدے بسیار خوری کی وجہ سے خراب تھے۔ انھیں تنبیہہ کی گئی کہ صرف اپنے حصے کا کھائیں اور دوسروں کی خوراک پر ہاتھ صاف نہ کیا کریں۔ کچھ نفسیاتی مریض بھی تھے جو نفرت اور تعصب کی آگ میں جل رہے تھے۔ کچھ بیچارے مریضوں کو خوراک کی کمی کی وجہ سے کمزوری لاحق تھی۔

ایک مریض نہایت لاغر اور کمزور تھا۔ اس کو سب سے الگ تھلگ رکھا گیا تھا۔ طبی ماہرین کئی بار معائنہ کر چکے تھے۔ ماہرین کی پوری ٹیم سخت الجھن اور پریشانی کا شکار تھی۔ طرح طرح کے ٹیسٹ ہو رہے تھے لیکن بیماری سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ مریض خوراک کی کمی کا شکار بھی نہ تھا۔ نہ ہی اس کے پاس مالی وسائل کی کمی تھی۔ اس کے تمام اعضاء بھی معذوری سے پاک تھے۔ لیکن اس کے باوجود مریض دن بہ دن لاغر ہوتا جا رہا تھا۔

آخر سارے طبی ماہرین کا بورڈ بٹھایا گیا۔ سارے ٹیسٹوں کا مل کر جائزہ لیا گیا۔ رپورٹیں دیکھ کر بورڈ کا سربراہ جیسے سکتے میں آگیا۔ باقی طبی ماہرین بھی اس کی تشخیص سے ورطہِ حیرت میں آ گئے۔

”پاکستان“ کے جسم سے عظیم الجُثّہ ”جونکیں“ چمٹی ہوئی تھیں۔ جو اس کا خون چوس چوس کر اسے لاغر اور کمزور کر رہی تھیں۔ ماہرین کے بورڈ نے متفقّہ حل تجویز کیا۔۔۔

"ان جونکوں کو پاکستان کے جسم سے کھینچ کھینچ کر علاحدہ کر دیں۔۔ پاکستان مکمل صحت یاب ہو جائے گا”۔

لوگ یہ سن کر مزید پریشانی کا شکار ہو گئے۔۔ انھوں نے نہایت بے بسی سے سوچا۔۔۔ افسوس۔۔۔ان جونکوں کو پاکستان کے جسم سے نجات کون دلا سکتا ہے۔ یہ تو پاکستان کی مالک اور حاکم ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481