کورونا کی نئی قسم دریافت، مختلف ممالک میں لوگوں کو متاثرکرنے لگی
دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کی ایک نئی قسم کو ماہرین نے دریافت کرلیا، جو متعدد ممالک میں لوگوں کو متاثر کرنے لگی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ماہرین نے کورونا کی نئی قسم کے بڑھنے کے خدشات کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ جولائی کے آخر میں امریکا، برطانیہ، اسرائیل میں ایک ایک کیس اور ڈنمارک میں تین کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔
سائنس دان سامنے آنے والی اس نئی قسم پر گہری نظر رکھنے ہوئے ہیں تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ آیا یہ نئی قسم اپنی پچھلی قسم سے زیادہ تیزی سے پھیل سکتی ہے یا نہیں۔
امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ پہلے کی طرح کورونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پرعمل کریں۔
یہ بھی پڑھیں شاہ محمود قریشی کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
حال ہی میں کورونا کیسز پورے امریکا، یورپ اور ایشیا میں بڑھ رہے ہیں لیکن یہ بڑی حد تک یہ ایک ذیلی قسم سے منسوب ہیں، جو امیکرون سے ملتا ہے، جو ابتدائی طور پر نومبر2021 میں منظر عام پر آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں صدر مملکت نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی بل پر دستخط کی تردید کردی
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے نئی قسم کو دلچسپ بڑھنے والی وباء کے طور پر درجہ بندی کی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسے زیادہ توجہ سے دیکھا جانا چاہیے۔
سی ڈی سی کی ویب سائٹ کے مطابق کورونا سے متعلقہ اسپتالوں میں داخل ہونے کی تعداد کم ہے لیکن جولائی کے اوائل سے بڑھ رہی ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اب تک یہ نئی قسم پھیل رہی ہے لیکن اس سے اتنے متاثر نہیں ہوئے
جتنے پہلے ہوئے تھے۔
ڈاکٹر ایس ویزلی لانگ نے کہا کہ یہ ویکسین اب بھی وباسے بچاؤ کے لیے زبردست دفاع فراہم کر رہی ہے۔
بہ بھی پڑھیں صدر مملکت نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی بل پر دستخط کی تردید کردی
نئے کورونا بوسٹر شاٹس کو نئی قسم سے بچنے کے لیے دیزائن کیا جارہا ہے۔
موڈرنا نے کہا کہ ابتدائی آزمائشی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ نئی ویکسین نئی آنے والی کورونا کی قسم کے خلاف امید افزا ہیں۔
