اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نائب امیر انتقال کر گئے

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نائب امیر انتقال کر گئے

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نائب امیر علامہ دلاور سیدی دوران حراست انتقال کر گئے ہیں۔

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نائب امیر انتقال کر گئے

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نائب امیر انتقال کر گئے

 یہ بھی پڑھیں نگراں وزیر اعلیٰ سندھ کیلئے جسٹس (ر) مقبول باقر پر اتفاق

تفصیلات کے مطابق علامہ دلاور سیدی 13 سال سے پابند سلاسل تھے ،

علامہ دلاور سیدی کو 1971 میں پاکستان کی حمایت کرنے پر 2010 میں سزائے موت سنائی گئی

وہ بنگلہ دیش کے معروف عالم دین تھے،اور 2 مرتبہ بنگلہ دیش کی قومی اسمبلی کے ممبر رہے۔

 

علامہ دلاور سیدی کی زندگی پر ایک نظر (بشکریہ ڈاکٹر معراج الہدٰی صدیقی)

قابل رشک ہے موت تیری قابل فخر ہے تیرا جینا
ورلڈ علماء کونسل کے رکن بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے عالم اسلام کے جید عالم دین نائب امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش علامہ دلاور حسین سعیدی   13 سال  قید کاٹنے کے بعد آج 14 اگست 2023ع کو خالق حقیقی سے جا ملے۔
اناللہ وانا الیہ راجعون

علامہ 1971 کی جنگ میں جامعہ بنوری ٹاون کراچی میں درس نظامی کی تکمیل کر رہے تھے، انہوں نے جماعت اسلامی میں شمولیت 1979 میں اختیار کی ۔ ان پر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے دیگر قائدین کی طرح پاکستان سے وفاداری نبھانے کا مقدمہ بنایا گیا تھا۔ ان کو 2011میں کینگرو کورٹس نے موت کی سزا سنائی لیکن بین الاقوامی علماء فورم اور پورا بنگلہ دیش سراپا احتجاج بن گیا تو سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا۔

097a2dd3 cc39 4766 bbf8 90d0f816d6418f61bae2 4ae6 4569 ad2e 88a2eebc82ee

13 سال سے جیل میں قید تھے اسکے باوجود کل ہسپتال منتقلی کے وقت مسکرا رہے تھے۔ علامہ کا 1971 کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں تھا پھر بھی جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے تمام قائدین کی طرح کسی قسم کی معافی اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش سے تعلق ختم کرنے آمادہ نہیں تھے۔ وہ حقیقت میں کردار کے غازی تھے انہوں نے پوری دلیری سے جبر کا مقابلہ کرتے ہوئے محرم کے مہینے میں امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت کو زندہ کیا

علامہ سعیدی خطابت میں کمال رکھتے تھے انکا شمار برصغیر کے بڑے خطیبوں میں ہوتا ہے۔ سیرت کے جلسوں میں لاکھوں سامعین انہیں سننے آتے تھے. وہ 1996 سے 2008 تک تین مرتبہ  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔ امام ابوحنیفہ رحمت اللہ علیہ کے عاشق تھے اور انہی کی طرح جنازہ پوری شان سے جیل سے نکلا

بنگلہ دیش کی حکومت پر ان کی رہائی کے لئے  سعودی عرب اور قطر کے علماء کا بھی پریشر تھاکیونکہ وہ صرف جماعت اسلامی کے ہی نہیں بلکہ ورلڈ علماء کونسل کے بھی ممبر تھے۔ ان کے شاگردوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے جو دنیا بھر میں دعوت و تبلیغ میں مصروف ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481