اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کوویڈ 19 کی نئی قسم ابھرنے سے عالمی کیسز میں 80 فیصد اضافہ

کوویڈ 19 کی نئی قسم ابھرنے سے عالمی کیسز میں 80 فیصد اضافہ

کوویڈ 19 کی نئی قسم ابھرنے سے عالمی کیسز میں 80 فیصد اضافہ
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران دنیا بھر میں کوویڈ 19 کے کیسز کی تعداد میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کوویڈ 19 کی نئی قسم ابھرنے سے عالمی کیسز میں 80 فیصد اضافہ

کوویڈ 19 کی نئی قسم ابھرنے سے عالمی کیسز میں 80 فیصد اضافہ

 

یہ بھی پڑھیں روسی تیل سے وابستہ امیدیں دم توڑ گئیں

میڈیارپورٹس کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے مئی میں کہا تھا کہ کووڈ 19 کی وبا اب عالمی طبی ایمرجنسی نہیں رہی، مگر ساتھ میں خبردار کیا تھا کہ وائرس تاحال خود کو تبدیل کر رہا ہے،

جس کے باعث اس کی لہریں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔عالمی ادارے نے کہا کہ 10 جولائی سے 6 اگست کے دوران دنیا بھر میں کوویڈ کے لگ بھگ 15 لاکھ نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

عالمی ادارے کا کہنا تھا کہ کیسز اور اموات کی تعداد حقیقی اعداد و شمار کی عکاسی نہیں کرتی کیونکہ زیادہ تر ممالک میں اب کوویڈ ٹیسٹنگ کم کی جا رہی ہے۔

 

ڈبلیو ایچ او

ڈبلیو ایچ او نے بتایا کہ زیادہ تر نئے کیسز مغربی بحر الکاہل کے خطے میں دیکھنے میں آئے جہاں بیماری کی شرح میں 137 فیصد اضافہ ہوا

،امریکا، برطانیہ، فرانس اور جاپان سمیت متعدد ممالک میں حالیہ ہفتوں کے دوران کوویڈ کیسز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں جشنِ آزادی: باجے، ون ویلنگ اور غل غپاڑہ – قصوروار کون؟

 

اس سے قبل 9 اگست کو ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کی قسم اومیکرون کی ذیلی قسم ای جی 5 کے بارے میں کہا تھا کہ اس پر نظر رکھی جا رہی ہے

کیونکہ وہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق وسط جولائی میں رپورٹ کیے گئے 17 فیصد سے زیادہ کیسز ای جی 5 کا نتیجہ تھے

،یہ نئی قسم بظاہر دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے

اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ بیماری کے خلاف حاصل

قوت مدافعت کے خلاف بھی مزاحمت کر سکتی ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481