اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جشنِ آزادی: باجے، ون ویلنگ اور غل غپاڑہ – قصوروار کون؟

جشنِ آزادی: باجے، ون ویلنگ اور غل غپاڑہ - قصوروار کون؟

aaaa

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ابرار خان، (ریٹائرڈ)

ہماری نانی اماں تحریکِ پاکستان کے قصّے ہمیں اکثر سنایا کرتیں اور ہم ہر دفعہ یہ سب کچھ بڑے انہماک سے سنا کرتے۔ یہ قصّے بیان کرتے کرتے وہ تو گویا اسی دور میں پہنچ جاتیں۔ ان کی آواز بھرا اور آنکھیں نم ہو جایا کرتیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ کے جھنڈے تلے تحریکِ پاکستان اپنے عروج پہ تھی۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے 1930میں مسلمانانِ برصغیر کیلئے ایک علیحدہ ریاست کا تصور پیش کیا۔ چودھری رحمت علی نے اس تصور کے نتیجے میں قائم ہونے والی ریاست کے لیے ‘پاکستان’ نام تجویز کیا۔ 23 مارچ 1940کو لاہور کے منٹو پارک میں (موجودہ اقبال پارک، جہاں اب مینارِ پاکستان واقع ہے) مسلمانانِ برصغیر کے عظیم الشان اجتماع میں مولوی فضل الحق نے قراردادِ لاہور پیش کی۔ یہ قرارداد ہی دراصل دو قومی نظریہ کی اساس تھی۔

aaa

 

برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے قیام کا اعلان ہوتے ہی ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ ایسے میں ہندوؤں اور سکھوں نے مل کر مسلمانوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی۔ بچوں کو ماؤں کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا گیا۔ کرپان سے مسلمانوں کے گلے کاٹے گئے۔ کمسن بچوں کے سر کلہاڑی کے وار سے تن سے جدا کیے گئے۔ نومولود بچے نیزوں اور برچھیوں کی زد پر تھے۔کم و بیش دس لاکھ مسلمان اپنی جانوں سے گئے۔ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو اجتماعی درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان آنے والے قافلے کی پہلی ریل گاڑی کے پاکستان پہنچنے کے دل خراش مناظر ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ ہمارے آباؤاجداد نے اس آزاد وطن کی کتنی بھاری قیمت چکائی ہے۔ خون سے اٹی ریل کی بوگیاں شہرِ خاموشاں کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ ایسے میں ریل کی کسی بوگی سے بھوک اور پیاس سے نڈھال زندہ بچ جانے والے بچے کی نقاہت زدہ آواز ریلوے اسٹیشن کی گہری خاموشی کو چیرتی ہوئی لوگوں کے دل بھی چیر گئی۔۔۔

"پاں" نہیں "چھاں" کیجیے

"پاں” نہیں "چھاں” کیجیے

 

ہمارے بڑے ہمیں تحریکِ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے بارے میں بار بار اس لیے بتایا کرتے تاکہ ہماری نسل اپنے پرکھوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے۔ ہر سال 14 اگست کا آغاز پاکستان کی سالمیت کی دعاؤں سے شروع ہوتا۔ شہدائے تحریکِ پاکستان کے بلند درجات کے لیے خصوصی دعائیں مانگی جاتیں۔ علامہ اقبال کے لہو گرما دینے والے اشعار طالب علموں کی تقاریر کو وہ معانی دے جاتے کہ سننے والوں میں جوش وجذبے کی لہر دوڑ جاتی۔ غرض بچہ بچہ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوتا۔ علامہ محمد اقبال اور محمد علی جناح کی روحوں کو ایصالِ ثواب کے لیے لوگ ان کے مزارات پہ عزّت و احترام کے ساتھ حاضری دیتے۔

حیف صد حیف، آج کے پاکستان میں اقبال کے لہو گرما دینے والے اشعار کی جگہ ہمیں باجوں کے بھونڈے شور سنائی دیتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد اور پاکستان کا مطلب کیا: لا الہ الا اللہ کے نعروں کی گونج سائلنسر نکلے موٹر سائیکلوں کے شور میں کہیں دب چکی ہے۔ قائد اعظم اور علامہ محمد اقبال کے مزارات پہ دعائے مغفرت کی جگہ ہلڑ بازی اور غل غپاڑے نے لے لی ہے۔ موٹر سائیکلوں کو ایک پہیہ پہ چلانا حب الوطنی کے جذبے پہ غالب ٹھہرا۔ اقبال کے شاہین کی پرواز میں کوتاہی آ گئی۔۔۔

لیکن ہمارے بزرگوں کی قربانیوں سے لاتعلقی کی ساری ذمہ داری نوجوان نسل پہ ڈالنے سے پہلے میں اپنی کوتاہی کا اعتراف کرتے ہوئے اس نوجوان نسل کی زوال پذیری کے لیے اپنے آپ کو سب سے بڑا قصور وار سمجھتا ہوں کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو وہ درس ہی نہ دے پائے جو ہمیں ہمارے بزرگوں نے دیا تھا۔ آج ہماری حب الوطنی صرف سوشل میڈیا تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ کیا ہم نے نوجوان نسل کو اپنے آباؤاجداد کی لازوال قربانیوں کے قصّے سنائے؟ کیا ہم نے ان کی تعلیم و تربیت اس ایمانداری سے کی جس کے وہ حقدار تھے۔ ہرچند کہ ان تمام سوالات کے جوابات نفی میں ہیں، مگر اپنے حصّے کی کوشش کے ساتھ راقم کی یہ دعا ہے کہ اقبال کے شاہین ان کے اس شعر کی حکمت کو سمجھ پائیں:

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیرِ امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول، طاوس و رباب آخر


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481