پیارے بچو! مولانا اسماعیل میرٹھی ہندوستان کے مشہور شہر "میرٹھ” میں 12 نومبر 1844 کو پیدا ہوئے۔ کیوں کہ ان کا تعلق میرٹھ سے تھا اس لیے "میرٹھی” ان کے نام سے زیادہ ان کا تعارف بنا۔ جی جی۔۔۔۔ ایک پیارے بچے نے بالکل صحیح نشاندہی کی ہے۔۔۔۔ انگریزوں کے خلاف ہماری جنگ آزادی کا آغاز میرٹھ سے ہوا تھا۔ جس طرح ہمارے فیصل آباد کا گھنٹہ گھر مشہور ہے اسی طرح میرٹھ میں بھی سرخ اینٹوں سے بنی ایک عمارت ہے جسے گھنٹہ گھر کہتے ہیں۔ جس محلے میں مولانا اسماعیل میرٹھی پیدا ہوئے تھے اب اسے "اسماعیل نگر” کہا جاتا ہے۔
مولانا اسماعیل میرٹھی نے پیارے پیارے ، ننھے منے ، اچھے سچے بچوں کے لیے بہت لکھا۔ آئیے ان کی یہ حمدیہ نظم پڑھتے ہیں۔
خدا کی تعریف
تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا
کیسی زمیں بنائی، کیا آسماں بنایا
پاؤں تلے بچھایا کیا خوب فرش خاکی
اور سر پہ لاجوردی اک سائباں بنایا
مٹی سے بیل بوٹے کیا خوش نما اگائے
پہنا کے سبز خلعت ان کو جواں بنایا
خوش رنگ اور خوشبو گل پھول ہیں کھلائے
اس خاک کے کھنڈر کو کیا گلستاں بنایا
میوے لگائے کیا کیا خوش ذائقہ رسیلے
چکھنے سے جن کے مجھ کو شیریں دہاں بنایا
سورج بنا کے تو نے رونق جہاں کو بخشی
رہنے کو یہ ہمارے اچھا مکاں بنایا
پیاسی زمیں کے منہ میں مینہ کا چوایا پانی
اور بادلوں کو تو نے مینہ کا نشاں بنایا
یہ پیاری پیاری چڑیاں پھرتی ہیں جو چہکتی
قدرت نے تیری ان کو تسبیح خواں بنایا
تنکے اٹھا اٹھا کر لائیں کہاں کہاں سے
کس خوبصورتی سے پھر آشیاں بنایا
اونچی اڑیں ہوا میں بچوں کو پر نہ بھولیں
ان بے پروں کا ان کو روزی رساں بنایا
کیا دودھ دینے والی گائیں بنائیں تو نے
چڑھنے کو میرے گھوڑا کیا خوش عناں بنایا
رحمت سے تیری کیا کیا ہیں نعمتیں میسر
ان نعمتوں کا مجھ کو ہے قدرداں بنایا
آب رواں کے اندر مچھلی بنائی تو نے
مچھلی کے تیرنے کو آب رواں بنایا
ہر چیز سے ہے تیری کاری گری ٹپکتی
یہ کارخانہ تو نے کب رائیگاں بنایا
مشکل الفاظ کے معانی
خاکی: مٹی سے بنا۔ تسبیح خواں: ذکر کرنے والا
لاجوردی: نیلے رنگ کا۔ خلعت: شاہی لباس
آشیاں: گھونسلہ۔ روزی رساں:رزق پہنچانے والا
شیریں: میٹھا۔ رائیگاں: بے کار
مینہ: بارش۔ آب رواں: بہتا پانی
