اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

میٹرک کے امتحان میں گرلز ہائی سکول اندر سیری کے ناقص نتائج

Picsart 25 07 28 10 46 16 337 1 2

گورنمنٹ گرلز ہائی سکول اندر سیری، پلک۔۔ ناقص نتائج کا ذمہ دار کون؟

حال ہی میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول اندر سیری، یوسی پلک، سرکل بکوٹ کے سالانہ نتائج نے علاقے کے تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ وہ سکول، جس نے گزشتہ برس شاندار نتائج دے کر عوام، اساتذہ اور انتظامیہ سے داد وصول کی تھی، اس کا نتیجہ امسال مایوس کن کیوں نکلا؟ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا پچھلے سال کا نتیجہ حقیقی محنت اور تدریسی معیار کا عکس تھا یا یہ سب "نقل کلچر” کی مرہونِ منت تھا؟ اور اگر نقل کا دروازہ بند کر دیا جائے تو کیا ہمارے بچے واقعی کامیاب ہو سکتے ہیں؟

یہ مسئلہ صرف اندر سیری یا ہمارے علاقے تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کا المیہ بن چکا ہے۔ جہاں امتحانی عملہ نقل کی اجازت نہ دے، وہاں نتائج زمین بوس ہو جاتے ہیں اور جہاں نقل کو کھلی چھوٹ ہو، وہاں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے جاتے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی گواہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام صرف نمبروں، گریڈز اور پوزیشنز کا محتاج ہو چکا ہے، جبکہ اصل علم، صلاحیت اور تربیت کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔

تاہم اس مرتبہ ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ امتحانی عملے نے جس فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نقل کو روکا، وہ قابلِ تعریف ہے۔ ایسے ایماندار افسران اور اساتذہ کو سراہنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ انہی کی بدولت ہمیں اصل تصویر نظر آ سکتی ہے کہ ہمارے بچے کس مقام پر کھڑے ہیں۔

تعلیمی معیار کی بہتری کے حوالے سے ارباب اختیار اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین پر بھی بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے۔ ایک بڑی تعداد  ایسے والدین کی ہے جو سال بھر اپنے بچوں کی تعلیم سے لاپروا رہتے ہیں، نہ سکول آ کر پتہ کرتے ہیں کہ اساتذہ حاضر ہیں یا نہیں، نہ یہ معلوم کرتے ہیں کہ ان کا بچہ سکول جا رہا ہے یا نہیں۔ ایسے والدین کو اس کی کیا پروا کہ سکول میں سٹاف مکمل ہے یا نہیں، تدریس کا معیار کیسا ہے، اور بچوں کی تعلیمی تربیت پر کتنا زور دیا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں، سکولوں میں بنائی گئی پیرنٹس ٹیچرز ایسوسی ایشنز (PTA) بھی اکثر اوقات رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہے۔ ان میں اکثر ایسے افراد کو شامل کیا جاتا ہے جن کا تعلیم سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا، یا جن کے اپنے بچے سکول میں زیرِ تعلیم ہی نہیں ہوتے۔ ایسے افراد نہ تو کسی سوال کی جرات رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی اصلاحی عمل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ان انجمنوں کا مقصد اگر صرف خانہ پری ہے تو یہ عمل سراسر وقت اور وسائل کا ضیاع ہے۔

ذمہ داریوں کی فہرست میں اگلا اہم نام محکمہ تعلیم کے افسران (ایس ڈی او، ڈی ای او) کا ہے، جو بھاری تنخواہیں تو لیتے ہیں مگر تعلیمی زوال کے سامنے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ ایسے افسران یا تو اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں یا انہیں محکمانہ اور عوامی جوابدہی کا احساس ہی نہیں۔ ایسے حالات میں ان کا تبادلہ یا معطلی کوئی انتقامی قدم نہیں بلکہ ایک ناگزیر اصلاحی قدم ہے۔

ہمیں اپنے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے فقط تحریری تنقید سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی طرف آنا ہوگا۔ میری تجویز ہے کہ ہر وی سی، یونین کونسل اور سرکل کی سطح پر ایک مضبوط، بااختیار اور تعلیم یافتہ کمیٹی تشکیل دی جائے۔ اس کمیٹی میں مقامی منتخب نمائندوں کے ساتھ ساتھ علاقائی دانشور، اساتذہ اور سماجی کارکن شامل ہوں۔ یہ کمیٹی براہِ راست ڈی ای او یا ضلعی افسران کے ساتھ رابطے میں ہو اور ہر ماہ سکولوں کا دورہ کرے۔ ایک باقاعدہ نظام کے تحت سٹاف کی حاضری، تدریسی معیار، اور نتائج پر نظر رکھتے ہوئے ان کی ماہانہ رپورٹ تیار کی جائے۔ 

علاقے کے چیئرمین صاحبان کو بھی اس نظام میں شامل کیا جائے اور ان کے ذمے باقاعدہ نگرانی کے فرائض ہوں۔ جب تک جزا و سزا کا مؤثر نظام قائم نہیں کیا جائے گا، نہ تو نتائج بہتر ہوں گے اور نہ ہی نقل کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ اگر اس نظام کو سنجیدگی سے نافذ کیا جائے تو نہ صرف سٹاف اپنی ذمہ داری محسوس کرے گا بلکہ طلبہ بھی اپنی محنت پر یقین رکھنا سیکھیں گے۔

آیئے، ہم سب مل کر اس تعلیمی بحران کے حل کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کریں اور صرف انگلیاں اٹھانے کے بجائے ایک ایسا لائحہ عمل طے کریں جہاں استاد اپنے مقام اور عزت، طالب علم اپنی قابلیت، اور والدین اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے عملی کام کا حصہ بنیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

 

ماسٹر ارشد عباسی، سالیہ، یوسی پلک


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481