اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ممتاز غزنی کی کہانیوں پر مشتمل کتاب "جنگل کے راہی”

FaceApp 1748802636962 1

ممتاز غزنی کی نئی کتاب "جنگل کے راہی”۔

ترقی یافتہ دنیا میں ادب اطفال پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ نئی نسل کی بہترین تعلیم و تربیت کو محفوظ مستقبل کی ضمانت سمجھتے ہیں۔ اس لیے ادب اطفال کے ذریعے وہ بچوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت کر کے ایک علم دوست، تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور اور انسان دوست معاشرے کی تشکیل کے ہتھیار کے طور پر ادب اطفال کا سہارا لیتے ہیں۔ ماہرین تعلیم اور ماہرین نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ ادب اطفال غیر محسوس طریقے سے اور تفریح مہیا کرتے ہوئے بچوں کی ذہنی اور اخلاقی نشو و نما کا فریضہ سرانجام دیتا ہے ۔ جن معاشروں میں ادب اطفال پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے وہاں نئی نسل میں مطالعہ، تحقیق اور جستجو کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ سماجی اور تاریخی شعور بڑھتا ہے ۔

ہمارے بچپن میں سکول میں بزم ادب کے ذریعے غیر نصابی سرگرمیوں پر بھرپور توجہ دی جاتی تھی۔ سکولوں کی لائبریریوں کی اچھی دیکھ بھال ہوتی تھی اور نئی کتابوں کا اضافہ ہوتا رہتا تھا۔ بچے خود اپنے جیب خرچ سے کہانیوں کی کتب اور بچوں کے رسائل خریدتے تھے۔ اخباروں میں ادب اطفال کے رنگین صفحات چھپتے تھے۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر بچوں کے پروگرام کے لیے اوقات مختص تھے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے ناگزیر تھا کہ ادب اطفال پر مزید توجہ دی جاتی تاکہ آنے والی نسلوں کی زیادہ بہتر انداز میں تربیت کر کے انھیں عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جاتا۔ لیکن بدقسمتی سے ادب اطفال اب ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہے بلکہ ادب ہی کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے سرکار کی جانب سے اکادمی ادبیات اور فروغ قومی زبان جیسے اداروں کو ختم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

اس ماحول میں ادب اطفال کے فروغ کے لیے کوشاں ہر فرد اور ادارہ لائق صد تحسین ہے۔ پہاڑی زبان کے شاعر، ادیب، افسانہ نگار اور ایکٹوسٹ برادرم ممتاز غزنی پہاڑی کے علاوہ اردو کے بھی ممتاز قلم کار ہیں۔ وہ ادب برائے ادب کے بجائے ادب برائے زندگی کے قائل ہیں۔ وہ اپنی ماں بولی پہاڑی زبان میں ناول، افسانہ، خاکہ لکھنے کے علاوہ ادب اطفال کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں‌۔ حال ہی میں ان کی "جنگل کے راہی” شائع ہوئی ہے جو بچوں کے لیے کہانیوں پر مشتمل ہے۔

ادب اطفال میں کہانی بنیادی اہمیت کی حامل ہے، جو بچوں میں نہ صرف ادبی ذوق پیدا کرتی ہے بلکہ سنجیدہ قلم کاروں کی تخلیق کردہ کہانی ذہنی، اخلاقی اور سماجی تربیت کا فریضہ ادا کرتی ہے۔

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس کتاب میں موجود کہانیوں میں تمام کردار جانوروں اور پرندوں کے ہیں۔ لیکن سعدی شیرازی اور مولانا رومی کی طرح ممتاز غزنی بھی ہر کہانی میں بچوں کو کوئی خاص اخلاقی سبق دیتے ہیں۔

بچے کیونکہ جادوئی، غیر مرئی اور طلسماتی کہانیوں میں زیادہ دل چسپی لیتے ہیں اور انھیں وہ ذہن نشین بھی جلدی ہو جاتی ہیں اس لیے ممتاز غزنی نے شعوری طور پر جانوروں اور پرندوں کے یہ غیر روایتی کردار تخلیق کیے ہیں۔ لیکن ان کہانیوں میں اخلاقی سبق سب روایتی ہیں۔۔۔ سچ کی جیت، عاقل، منصف اور ہمدرد کو ہی حکمرانی زیبا، خواب دیکھنے اور محنت سے کامیابی، کمزوری کو چھپانے کے بجائے اس کو دور کریں، جھوٹ اور فریب کا برا انجام، چاندنی صرف آسمان پر ہی نہیں دل میں بھی چمکتی ہے، غرور کا سر نیچا، دوست وہ جو مشکل میں کام آئے، وغیرہ ، وغیرہ

کیونکہ یہ مائیکرو فکشن کا زمانہ ہے اس لیے مختصر نظموں کے بعد اب کہانیاں مختصر ترین ہوتی جا رہی ہیں۔ "جنگل کے راہی” کی ہر کہانی فقط ایک صفحے پر محیط ہے۔ چند نمونے دیکھیے۔۔۔

جنگل کا سکول
ایک دن عقل مند الو نے اعلان کیا کہ جنگل میں سب بچوں کے لیے سکول کھولا جائے گا۔ سارے جنگل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سب جانوروں نے تعاون کیا۔ سکول شروع ہوگیا۔ خرگوش، ہرن، ریچھ، بندر اور ننھی چڑیا بستے لے کر آئے۔ الو استاد نے نصابی درس کے علاوہ کہانیاں سنائیں، درختوں کے نام سکھائے اور اچھے اخلاق کے بارے میں رہنمائی کی۔
ننھی چڑیا نے سب سے پہلے نظم یاد کی۔ ریچھ نے تصویریں بنائیں۔ بندر نے سب کو ہنسایا۔ الو استاد نے بچوں کو پیار سے سمجھایا، "ہر بچہ خاص اور منفرد ہے”۔
سبق: تعلیم سب کے لیے ہے۔ علم سے سب روشن ہوتے ہیں

چڑیا کا خواب
ایک ننھی چڑیا "چنی” ایک بڑے درخت پر رہتی تھی۔ وہ آسمان کی طرف دیکھتا اور سوچتی کہ کاش وہ بہت اونچا اڑ سکے۔۔۔ پہاڑوں کے پار، نیلے سمندر تک۔ بڑے پرندے اس پر ہنستے۔ لیکن چنی صرف خواب نہیں دیکھتی تھی اس کے حوصلے بھی جوان تھے۔ اس میں خود اعتمادی تھی۔ اپنے پروں کو مضبوط بنانے کے لیے وہ مشق کرتی اور چھوٹے چھوٹے سفر تواتر کے ساتھ کرتی۔
ایک دن آندھی آئی۔ سب پرندے محفوظ جگہوں پر چھپ گئے لیکن چنی نے اپنے پر پھیلائے اور ہوا کے دوش پر اڑنے لگی۔ وہ پہاڑوں کے اوپر جا پہنچی۔ سمندر کو دیکھنے کا اس کا خواب بھی پورا ہوا۔ اس کی آنکھیں خوشی سے بھر آئیں۔ جب وہ لوٹی تو سب پرندے حیران رہ گئے۔ چنی نے مسکرا کر کہا، "حجم نہیں، حوصلہ اہم ہوتا ہے” ۔
سبق: خواب دیکھ کر اسی تناسب سے محنت کر کے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے

ادب اطفال بچوں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ نہ صرف تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتا ہے بلکہ نئی نسلوں کو اچھے انسان اور ذمہ دار شہری بنانے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ بچوں کو معیاری اور مفید ادب تک رسائی فراہم کریں۔

 

راشد عباسی ۔۔۔ راولپنڈی 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481