اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کہانی : بے ایمانی سے ملے پریشانی

Picsart 22 11 06 17 51 31 549

بے ایمانی سے ملے پریشانیPicsart 22 11 06 18 07 26 126 1

تحریر: شکور احسن

پیارے بچو! ! پوٹھوہار کے ایک گاؤں میں اکبر رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک ٹریکٹر تھا۔ اس کا گزارہ اسی ٹریکٹر پر تھا۔ وہ ٹریکٹر کے ذریعے کھیتوں میں ہل چلاتا اور لوک گھنٹے کے حساب سے اسے ادائیگی کرتے۔ وہ معاوضہ تو مناسب لیتا لیکن ہل گہرا نہ چلاتا۔ اس سے کسانوں کو نقصان ہوتا کیونکہ گہرے ہل سے فصلیں اچھی ہوتی ہیں۔

ایک دفعہ اکبر ایک کسان کے کھیتوں میں بوائی (فصل کے لیے بیج بونا) کر رہا تھا۔ جب اس نے کھیت مکمل کر لیا تو کسان مطمئن نہ ہوا۔ اس نے معاوضہ دے کر پھر بوائی کروائی لیکن اکبر کا کام ابھی بھی تسلی بخش نہ تھا۔ اچھی فصل کی خواہش میں اس نے تیسری مرتبہ پھر ٹریکٹر چلوایا لیکن مطلوبہ نتائج اب بھی حاصل نہ ہوئے۔ کسان نے ادائیگی کی اور اکبر کو بتا دیا کہ آئندہ وہ اس سے ہل نہیں چلوائے گا۔

اکبر وہاں سے سیدھا اپنے کھیت میں آیا اور ایک بار گہرے ہل سے بوائی کر کے فارغ ہوا۔ وہ خوشی خوشی کھیت سے ٹریکٹر کو باہر نکالنے لگا تو ہل کسی چیز میں پھنس کر ٹوٹ گیا۔ اکبر نے کچھ اور کسانوں کو بھی وقت دیا ہوا تھا لیکن ہل کی غیر موجودگی میں ٹریکٹر بے کار تھا۔ ہل کو مرمت کروانے میں ایک طرف ایک دن ضائع ہو گیا اور دوسری طرف جتنا معاوضہ اس نے کسان سے لیا تھا اس سے زیادہ ہل کی مرمت پر خرچہ ہو گیا۔

دیکھا بچو۔ کیسے بے ایمانی کی سزا ملتی ہے۔ جو کسی کام میں بے ایمانی کرتا ہے وہ ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے۔ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ بہ ہر صورت اپنا کام دیانت داری سے کیا جائے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481