تحریر: شکور احسن
پیارے بچو! ! پوٹھوہار کے ایک گاؤں میں اکبر رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک ٹریکٹر تھا۔ اس کا گزارہ اسی ٹریکٹر پر تھا۔ وہ ٹریکٹر کے ذریعے کھیتوں میں ہل چلاتا اور لوک گھنٹے کے حساب سے اسے ادائیگی کرتے۔ وہ معاوضہ تو مناسب لیتا لیکن ہل گہرا نہ چلاتا۔ اس سے کسانوں کو نقصان ہوتا کیونکہ گہرے ہل سے فصلیں اچھی ہوتی ہیں۔
ایک دفعہ اکبر ایک کسان کے کھیتوں میں بوائی (فصل کے لیے بیج بونا) کر رہا تھا۔ جب اس نے کھیت مکمل کر لیا تو کسان مطمئن نہ ہوا۔ اس نے معاوضہ دے کر پھر بوائی کروائی لیکن اکبر کا کام ابھی بھی تسلی بخش نہ تھا۔ اچھی فصل کی خواہش میں اس نے تیسری مرتبہ پھر ٹریکٹر چلوایا لیکن مطلوبہ نتائج اب بھی حاصل نہ ہوئے۔ کسان نے ادائیگی کی اور اکبر کو بتا دیا کہ آئندہ وہ اس سے ہل نہیں چلوائے گا۔
اکبر وہاں سے سیدھا اپنے کھیت میں آیا اور ایک بار گہرے ہل سے بوائی کر کے فارغ ہوا۔ وہ خوشی خوشی کھیت سے ٹریکٹر کو باہر نکالنے لگا تو ہل کسی چیز میں پھنس کر ٹوٹ گیا۔ اکبر نے کچھ اور کسانوں کو بھی وقت دیا ہوا تھا لیکن ہل کی غیر موجودگی میں ٹریکٹر بے کار تھا۔ ہل کو مرمت کروانے میں ایک طرف ایک دن ضائع ہو گیا اور دوسری طرف جتنا معاوضہ اس نے کسان سے لیا تھا اس سے زیادہ ہل کی مرمت پر خرچہ ہو گیا۔
دیکھا بچو۔ کیسے بے ایمانی کی سزا ملتی ہے۔ جو کسی کام میں بے ایمانی کرتا ہے وہ ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے۔ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ بہ ہر صورت اپنا کام دیانت داری سے کیا جائے۔

