غزہ کے محصور فلسطینیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تقریباً دو سال بعد مصر اور غزہ کے درمیان واحد زمینی راستہ رفح گزرگاہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ امریکی ثالثی میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ رفح گزرگاہ یکم فروری سے محدود پیمانے پر کھولی جائے گی۔ اس راستے سے صرف مخصوص افراد کو آمد و رفت کی اجازت ہوگی، جن میں وہ فلسطینی شامل ہیں جو پہلے غزہ سے باہر جا چکے ہیں یا علاج کے لیے خصوصی اجازت کے حامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رفح گزرگاہ کے ذریعے فی الحال امدادی سامان یا تجارتی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس پابندی کی وجہ سیکیورٹی خدشات ہیں۔ گزرگاہ استعمال کرنے والوں کی اسرائیل اور مصر کی مشترکہ سیکیورٹی جانچ کی جائے گی جبکہ اس عمل کی نگرانی یورپی یونین کرے گی۔
غزہ کی مقامی انتظامیہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بعض سیکیورٹی وجوہات کے باعث رفح گزرگاہ کے باقاعدہ افتتاح میں مزید تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔ رفح راہداری غزہ کے تقریباً 20 لاکھ افراد کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، جہاں خوراک، ادویات اور طبی سہولیات کی شدید کمی ہے۔
دوسری جانب جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے باعث امن عمل کے مستقبل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
