امریکا نے بھارت اور چین سمیت روس سے تیل اور یورینیم خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ ممکنہ طور پر اس بل پر اگلے ہفتے ووٹنگ متوقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی قانون ساز اور دفاعی امور کے رہنما سینیٹر لنڈسے گراہم نے بتایا کہ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی پابندیوں سے متعلق اس بل کی منظوری کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ بل کے تحت روس سے تجارت کرنے والے ممالک، خاص طور پر بھارت، چین اور برازیل پر بھاری ٹیرف لگایا جا سکتا ہے اگر وہ روس سے تیل یا یورینیم کی خریداری جاری رکھتے ہیں۔
سینیٹر گراہم نے کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد ماسکو کی معیشت کو کمزور کرنا اور روسی جنگی مشینری کے لیے فنڈز کی فراہمی روکنا ہے۔ بل کے قانون بننے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور روس کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ امریکہ کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سینیٹر گراہم نے مزید کہا کہ امریکہ اب ایسے ممالک کو مزید رعایت دینے کے حق میں نہیں جو روس کی توانائی کی صنعت کو سہارا دے رہے ہیں۔
