افغان طالبان نے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی معطل کر دی
افغانستان میں طالبان حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی تاحکم ثانی معطل کر دی ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ تمام وزارتوں اور سرکاری اداروں پر لاگو ہے، تاہم طالبان حکام نے اس حوالے سے کوئی سرکاری وضاحت یا تبصرہ فراہم نہیں کیا۔
قبل ازیں بھی طالبان کی جانب سے تنخواہوں میں تاخیر معمول رہی ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ تنخواہوں کی ادائیگی کو مکمل طور پر بغیر متعین تاریخ کے معطل کیا گیا ہے۔
کچھ سرکاری ملازمین نے بتایا کہ تنخواہوں کی تازہ معطلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سردیوں کی شدت کے باعث بیشتر خاندان مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک ملازم نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ محدود تنخواہیں اور مراعات گھر کا کرایہ اور بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
افغانستان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث سرکاری ملازمین بجٹ کی کمی، امداد میں کٹوتیوں، بینکاری پابندیوں اور بین الاقوامی فنڈنگ میں رکاوٹوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔
