سوڈان میں ایک اسپتال اور پرائمری اسکول پر فضائی حملے کے نتیجے میں 114 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں 68 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ حملہ ملک میں جاری خانہ جنگی کے دوران ہوا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، نشانہ بننے والا اسپتال سوڈان کا آخری فعال طبی مرکز تھا، جس میں سیکڑوں مریض داخل تھے۔ حملے کے دوران ایمرجنسی وارڈ مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور ملبے تلے طبی عملہ، مریض اور ان کے اہل خانہ دب گئے۔ اسپتال کے قریب موجود کنڈرگارٹن اسکول بھی حملے میں تباہ ہو گیا۔
ڈبلیو ایچ او نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں اور اسکولوں پر حملے جنگی جرائم ہیں اور صحت کا نظام پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے۔
اقوام متحدہ نے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ افریقی یونین نے فریقین پر زور دیا ہے کہ شہریوں اور طبی مراکز کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ امدادی تنظیموں نے متاثرین کو محفوظ منتقل کرنے کے لیے فوری راستے کھولنے کی اپیل کی ہے۔
یاد رہے کہ سوڈان میں گزشتہ دو سال سے فوج اور پیرا ملٹری فورس ریپڈ سپورٹ فورس کے درمیان خونریز جھڑپیں جاری ہیں، جس سے ملک میں شدید انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔
