ظہران ممدانی کانیویارک کے کم عمر ترین میئر تک کا تاریخی سفر۔ 34 سالہ ظہران ممدانی نے غیر سرکاری نتائج کے مطابق 49.6 فیصد ووٹ حاصل کر کے نیویارک کے 111 ویں میئر منتخب ہو گئے، جبکہ ان کے حریف سابق گورنر اینڈریو کومو کو 41.6 فیصد ووٹ ملے۔
ایک سال پہلے تک ممدانی نیویارک کی اسٹیٹ اسمبلی کے نسبتاً غیر معروف رکن تھے، مگر انتخابی مہم کے ہر مرحلے پر ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ رضاکاروں کی تعداد بڑھتی گئی، انتخابی فنڈز ریکارڈ سطح پر پہنچے، اور آخرکار ڈیموکریٹک پرائمری اور عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔
2024 کے موسم گرما میں ممدانی نے مختلف لیبر رہنماؤں، اتحادیوں اور میڈیا شخصیات سے ملاقاتیں کیں، اور 23 اکتوبر 2024 کو باقاعدہ مہم کا آغاز کیا۔ ان کی تین اہم پالیسیوں میں نیویارک بھر میں مفت بس سروس، بچوں کی مفت نگہداشت اور گھروں کا کرایہ منجمد کرنا شامل تھے۔
ممدانی نے 24 جون 2025 کو ڈیموکریٹک پرائمری میں غیر متوقع طور پر بڑی برتری سے کامیابی حاصل کی، جبکہ اینڈریو کومو نے بطور آزاد امیدوار مقابلہ کرنے کا اعلان کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کی مخالفت کے باوجود، ظہران ممدانی نے شاندار کامیابی حاصل کر کے نیویارک کے پہلے مسلم اور پہلے جنوبی ایشیائی، اور پچھلے 100 سالوں کے کم عمر ترین میئر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
یہ انتخاب امریکی سیاست میں ایک نیا باب رقم کرتا ہے اور ترقی پسند ووٹرز کے لیے امید کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
