Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی،یہودی آبادکاری منصوبے کی منظوری

نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی،یہودی آبادکاری منصوبے کی منظوری

نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی،یہودی آبادکاری منصوبے کی منظوری

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزارت دفاع کے منصوبہ بندی کمیشن نے مغربی کنارے اور مشرقی القدس کو علیحدہ کرنے والے رہائشی مںصوبے (E1) کی حتمی منظوری دے دی۔

 

خیال رہے کہ اس منصوبے کے تحت تقریباً متنازع زمین پر 3 ہزار 400 رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے جسے فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کیا جا رہا ہے۔

 

اس زمین پر یہودی آبادکاری کا منصوبہ اسرائیل کا دیرینہ خواب رہا ہے لیکن شدید عالمی دباؤ اور تنقید کے باعث وہ اس پر عمل درآمد نہیں کر پا رہا تھا۔

 

تاہم چھ روز قبل اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل اسموتریچ نے ای ون بستی کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ہم فلسطینی ریاست کے تصور کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیں گے۔

 

اس اعلان کے سامنے آتے ہی اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عالمئی تنظیموں نے شدید مخالفت کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ اسرائیل کا یہ جارحانہ اقدام امن کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوگا۔

 

فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اس منصوبے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی تھی جبکہ جرمن حکومت نے بھی اس پر سخت تحفظات ظاہر کیے تھے۔

 

اس کے باوجود اسرائیل کا متنازع منصوبے کی منظوری دینا ظاہر کرتا ہے وہ مشرق وسطیٰ میں کیا عزائم رکھتا ہے اور اپنی توسیع پسندانہ پالیسی پر کاربند ہے۔

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481