نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی،یہودی آبادکاری منصوبے کی منظوری
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزارت دفاع کے منصوبہ بندی کمیشن نے مغربی کنارے اور مشرقی القدس کو علیحدہ کرنے والے رہائشی مںصوبے (E1) کی حتمی منظوری دے دی۔
خیال رہے کہ اس منصوبے کے تحت تقریباً متنازع زمین پر 3 ہزار 400 رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے جسے فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کیا جا رہا ہے۔
اس زمین پر یہودی آبادکاری کا منصوبہ اسرائیل کا دیرینہ خواب رہا ہے لیکن شدید عالمی دباؤ اور تنقید کے باعث وہ اس پر عمل درآمد نہیں کر پا رہا تھا۔
تاہم چھ روز قبل اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل اسموتریچ نے ای ون بستی کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ہم فلسطینی ریاست کے تصور کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیں گے۔
اس اعلان کے سامنے آتے ہی اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عالمئی تنظیموں نے شدید مخالفت کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ اسرائیل کا یہ جارحانہ اقدام امن کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوگا۔
فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اس منصوبے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی تھی جبکہ جرمن حکومت نے بھی اس پر سخت تحفظات ظاہر کیے تھے۔
اس کے باوجود اسرائیل کا متنازع منصوبے کی منظوری دینا ظاہر کرتا ہے وہ مشرق وسطیٰ میں کیا عزائم رکھتا ہے اور اپنی توسیع پسندانہ پالیسی پر کاربند ہے۔
