حماس نے غزہ خالی کرنے کا اسرائیل کا منصوبہ مسترد کردیا
عرب میڈیا کے مطابق حماس نے اسرائیل کی جانب سے جنوبی غزہ میں خیمے اور دیگر پناہ گاہوں کا سامان تعینات کرنے کے منصوبے کو ”واضح دھوکا دہی“ قرار دے دیا۔
اسرائیل نے غزہ شہر اور دیگر گنجان آباد علاقوں میں ایک اور زمینی کارروائی کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کا مقصد حماس کو ختم کرنا بتایا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ انسانی امداد کے نام پر خیموں کی فراہمی کرنا واضح دھوکا ہے، جس کا مقصد وحشیانہ مظالم کو چھپانا ہے جو قابض فورسز کرنے جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:۔ امریکا نے بھارت کے ساتھ تجارتی مذاکرات منسوخ کردیے
واضح رہے کہ مارچ میں جنگ بندی ٹوٹنے اور اسرائیل کی جانب سے مکمل ناکہ بندی کے بعد غزہ میں زیادہ تر امدادی سامان کی ترسیل روک دی گئی تھی۔ اگرچہ اب جزوی طور پر امداد دوبارہ پہنچنا شروع ہوگئی ہے، مگر انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ امداد ضرورت سے بہت کم ہے۔ کچھ اداروں نے اسرائیل پر ”امداد کو بطور ہتھیار استعمال“ کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:۔ بنگلادیش میں یوم آزادی پر پاکستانی جھنڈوں کی ریکارڈ فروخت
اسرائیلی بمباری اور زمینی کارروائی میں اب تک دسیوں ہزار فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ زیادہ تر آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں قحط اور غذائی قلت کی سطح جنگ کے آغاز کے بعد سے بدترین ہے۔
