طالبان کا افغانستان سے باہر دہشت گردی پر انتباہ
افغان طالبان نے افغانستان سے باہر دہشت کارروائیوں پر انتباہ جاری کر دیا۔افغان طالبان کمانڈر سعید اللہ سعید نے پولیس اہلکاروں کی پاسنگ آوٹ پریڈ سے خطاب میں کہا کہ امیر کے حکم کے خلاف کسی بھی ملک سے لڑنا جائز نہیں ہے، ریاستی قیادت کے حکم کے باوجود لڑنے کے لیے جانا دینی نافرمانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیر کے حکم کے خلاف کسی بھی میں لڑنا جائز نہیں، مختلف گروہوں میں شامل ہو کر بیرونِ ملک جہاد کرنے والے حقیقی مجاہد نہیں، ایک جگہ سے دوسری جگہ حملے کرنے والے افراد کو مجاہد کہنا غلط ہے،عام حالات میں جہاد فرض نہیں ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جہاد کا اعلان یا اجازت دینا صرف ریاستی امیر کا اختیار ہے کسی گروہ یا فرد کا نہیں،، اپنی انا یا گروہ کی وابستگی کی بنیاد پر کیا گیا جہاد شریعت کے مطابق فساد تصور کیا جائے گا۔کمانڈر سعید اللہ سعید نے یہ بھی کہا کہ جہاد کے نام پر حملے کرنے والے گروہ شریعت اور افغان امارت دونوں کے نافرمان ہیں۔یہ جہاد اگر تم اپنے نفس کی رضا کے لئے کررہے ہو نفس کی مرضی سے کررہے ہو یا پھر اطاعت سے کررہے ہو اور اگر یہ جہاد آپ اطاعت سے کررہے ہو تو آپ کو علماء سے پوچھنا چاہیے اگر آپ کو سمجھ نہیں آرہی تو علماء سے اجازت لے لیتے اس جہاد کے لئے ، کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے اس عمل کو سیکھنا فرض ہے ، انہوں نے کہا کہ میرے اور آپ پر حج، روزے ،زکواتہ،نماز ،جہاد یہ ہر کام ادا کرنے اور پورا کرنے سے پہلے سیکھنا واجب ہے تو ہمیں پہلے جہاد سیکھنا اور جہاد سمجھنا ضروری ہے پھر جہاد کے لئے جائیںگے۔
