دلاور فگار
اردو کے مشہور مزاح نگار جناب دلاور فگار 8 جولائی 1929ء کو ہندوستان کے مشہور شہر بدایوں میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد 1968 میں کراچی چلے آئے۔ آپ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔
دلاور فگار کے مزاحیہ شعری مجموعے درج ذیل ہیں
"انگلیاں فگار اپنی”
"ستم ظریفیاں”
"آداب عرض”
"شامت اعمال”
"مطلع عرض ہے”
"خدا جھوٹ نہ بلوائے”
"چراغ خنداں”
"کہا سنا معاف کرنا”
ابنِ انشا کی زمین میں دلاور فگار کی ایک غزل
کل چودھویں کی رات تھی آباد تھا کمرہ ترا
ہوتی رہی دھک دھک دھنا، بجتا رہا طبلہ ترا
شوہر، شناسا، آشنا، ہمسایہ، عاشق، نامہ بر
حاضر تھا تیری بزم میں ہر چاہنے والا ترا
عاشق ہیں جتنے دیدہ ور، تو سب کا منظورِ نظر
نتھا ترا، فجّا ترا، ایرا ترا، غیرا ترا
اک شخص آیا بزم میں، جیسے سپاہی رزم میں
کچھ نے کہا یہ باپ ہے، کچھ نے کہا بیٹا ترا
میں بھی تھا حاضر بزم میں، جب تو نے دیکھا ہی نہیں
میں بھی اٹھا کر چل دیا بالکل نیا جوتا ترا
یہ مال اک ڈاکے میں کل دونوں نے مل کرلوٹا ہے
انصاف اب کہتا ہے یہ، آدھا مرا، آدھا ترا
۔۔۔۔۔
راشد عباسی
