اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● مریم نوازکا فاتح-۲ کے کامیاب تربیتی تجربہ پر اظہار تشکر ● Why Oman and Pakistan Are Shaping Iran-U.S. Diplomacy ● Islamabad Back in the Spotlight as Iran-U.S. Talks ● Iranian FM Araghchi Leaves Islamabad for Moscow ● Islamabad Scrambles to Revive Stalled US-Iran Peace Talks ● پنجاب میں بڑے روڈزکو ٹریفک کیلئے ماڈل بنانےکا فیصلہ ● پاکستان نے ایران کیلئے تجارتی راستہ کھول دیا ● امارات میں صنعتی شعبے کیلئے ایک ارب درہم کا پیکیج

پہاڑی علاقوں میں ٹریفک حادثات کی روک تھام

Picsart 25 10 21 12 53 45 015

پاکستان میں ہر سال ہزاروں لوگ سڑکوں پر ہونے والے حادثات میں جاں بحق اور شدید زخمی ہوتے ہیں۔ زخمیوں میں سے سینکڑوں افراد عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں۔ اکثر حادثات ٹریفک قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے اور سیفٹی قوانین کا نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

اگر ہم پہاڑی علاقوں کی بات کریں تو اکثر علاقوں میں اب دور دراز دیہات میں بھی سڑکیں تعمیر ہو چکی ہیں۔ جہاں سرکار فنڈز فراہم نہیں کرتی وہاں لوگ امداد باہمی کے ذریعے سڑکیں تعمیر کر لیتے ہیں۔ لیکن ایسی سڑکوں کی تعمیر ماہرین کے ذریعے باقاعدہ سروے کے مطابق نہیں ہوتی بلکہ لوگ آپس میں مل کر یہ طے کر لیتے ہیں کہ سڑک کو کس جگہ سے موڑ دینا ہے اور کہاں سے اسے سیدھا آگے لے کر جانا ہے۔ اس طرح سڑک کہیں خطرناک موڑ کی وجہ سے اور کہیں شدید اترائی اور چڑھائی کی وجہ سے حادثات کا موجب بن جاتی ہے۔ نیز جب سڑک کی تعمیر کے لیے مشین کے ذریعے کٹائی کی جاتی ہے تو رستے میں آنے والی پہاڑیوں کو ہٹا دیا جاتا ہے۔ اس طرح لینڈ سلائیڈنگ کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

ابھی سڑک کی تعمیر مکمل بھی نہیں ہوتی کہ شہرت کے رسیا لیڈروں کو افتتاح کا چسکا بے تاب کر دیتا ہے۔ یوں سڑک ابھی کچی پکی ہی ہوتی ہے کہ سیٹھ صاحب کی جیپ سڑک پر دوڑ کر سوشل میڈیا پر مبارک باد وصول کرنا شروع کر دیتی ہے۔

بغیر ماہرین کے مشورے کے سڑک کی تعمیر ہی خطرات کو دعوت دینے کے مترادف ہے لیکن اگر اس خطرے کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو پانی کی نکاسی کے لیے نالی اور دونوں اطراف کی حفاظتی دیوار کو مکمل کیے بغیر سڑک کو ٹریفک کے لیے کھولنا حادثات کو دعوت دینے کے سوا کچھ نہیں۔

دیہات میں جو گاڑیاں مقامی سڑکوں پر چل رہی ہوتی ہیں وہ انتہائی پرانے ماڈل کی ہوتی ہیں۔ ان کی مرمت اور دیکھ بھال کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں وضع کیا جاتا۔ کئی دفعہ گاڑی میں خطرناک نقص ہونے کے باوجود اس لیے اسے کارگاہ میں کھڑا نہیں کیا جاتا کہ دیہاڑی ضائع ہو جائے گی۔ کئی گاڑیوں کے ڈرائیوروں نے بھی ڈرائیونگ کسی سکول سے نہیں سیکھی ہوتی، اس لیے وہ اس شعبے کے رموز و اوقاف سے کما حقہ واقف نہیں ہوتے۔ ان پرانی گاڑیوں کی بوسیدہ حالت کے باوجود ان پر استطاعت اور گنجائش سے زیادہ بوجھ لادنا بھی دیہات میں عمومی واردات ہے۔

مندرجہ بالا نکات کے ساتھ ساتھ ایک اور ناقابل معافی جرم تیز رفتاری ہے۔ متعدد مقامات سے ٹوٹی پھوٹی، بل کھاتی، شدید اترائی یا چڑھائی کی حامل ان سڑکوں پر تیز رفتاری گاڑی میں سوار نفوس کو موت کے منہ میں دھکیلنا ہے۔

بلدیاتی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں حادثات کی روک تھام کے لیے کمیٹیاں تشکیل دیں۔ سڑکوں کے انتظامات بہتر بنانے کے لیے محکمہ شاہرات کو مجبور کریں کہ وہ کار ہائے ضروری کے لیے فنڈز کا اجرا کریں۔ ٹریفک پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ ان کے علاقے میں چلنے والی گاڑیاں بے نقص ہیں اور ڈرائیور پیشہ ورانہ تربیت اور تجربے کے حامل ہیں۔

راشد عباسی۔۔۔ راولپنڈی 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481