مودی کے ہندوستان میں مسلمانوں سمیت اقلیتوں پر جبر کا سلسلہ بڑھ گیا ہے۔ او4ر دیکھتے ہی دیکھتے مودی سرکار کی انتہا پسندی تعلیمی اداروں تک پہنچ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق بی جے پی کی انتہا پسند حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی مسلمان طالبات کو ہندو مذہب کی رسومات ادا کرنے پر مجبور کردیا ہے۔مائیکرو بلاگنگ سائٹ ”ایکس“ پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے، جس میں برقع پہنی کئی طالبات کو ”گنیش آرتی“ گاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
مذکورہ ویڈیو مبینہ طور پر مقبوضہ کشمیر کے جنوب میں واقع پہلگام قصبے کے سالار گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول کی ہے۔بھارتی صحافی آدتیہ راج کول نے ”ایکس“ پر جو ویڈیو شئیر کی اس میں دیکھا جاسکتا ہے ایک طالبہ پوڈیم پر کھڑے ہوکر دوسری طالبات کی رہنمائی کر رہی ہے، جو ایک کھلی جگہ پر بیٹھ کر ”گنیش وندنا“ کے شلوک پڑھ رہی ہیں۔
گنیش وندنا ختم ہونے کے بعد اساتذہ دوسرے بچوں کو گنیش وندنا پڑھانے والی طالبہ سے پوچھتے ہیں کہ وہ اونچی آواز میں کہے کہ انہوں نے ابھی کیا پڑھا ہے اور بھگوان گنیش کی اہمیت کی وضاحت کریں کہ کسی بھی کام کے آغاز سے پہلے اس کی تعظیم کیوں کی جاتی ہے۔ایک ٹیچر کی مدد سے طالبہ نے سمجھایا کہ چونکہ بھگوان گنیش کو سب سے بڑا دیوتا مانا جاتا ہے، اس لیے ہم گنیش وندنا پڑھتے ہیں اور کوئی بھی کام شروع کرنے یا کسی دوسرے دیوی دیوتا کو پوجنے سے پہلے گنیش کی مورتی پر چندن کا پیسٹ لگاتے ہیں۔

