دو سال میں پی آئی اے کی تباہی کا خدشہ
وزير برائے ہوا بازی خواجہ سعد رفیق نے خبردار کیا ہے کہ اگرپی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ نہ کی گئی تو 2 سال میں ادارہ مکمل تباہ ہو جائے گا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ائیرپورٹ کو 15 سال کے لیے آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے
لیکن کوئی ملازم بے روزگار نہیں ہو گا، دنیا میں پرائیویٹ آپریٹرز کے ذریعے ائیرپورٹس کو چلایا جاتا ہے، آؤٹ سورس کا مطلب یہ نہیں کہ ائیرپورٹس کو بیچا جارہا ہے، رن وے اور نیوی گیشن سسٹم آؤٹ سورس نہیں کیا جا رہا.
یہ بھی پڑھیں بہاولپوریونیورسٹی کے4اساتذہ ۔11 طالب علم منشیات دھندے میں ملوث نکلے
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اسلام آباد کے بعد لاہور اور کراچی ائرپورٹس کی باری آئے گی، اگر کوئی دباؤ ڈالے گا تو دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا۔سعد رفیق نے کہا کہ غلام سرور خان کے احمقانہ بیان کی وجہ سے پی آئی اے کو 70 ارب روپے کا نقصان ہوا، ماضی میں پی آئی اے میں بے دریغ سیاسی بھرتیاں کی گئیں، جہاں ضرورت نہیں تھی وہاں بھی 50، 50 لوگوں کو بھرتی کیا گیا، مارشل لا، جمہوری حکومتوں میں بھی پی آئی اے میں بے دریغ بھرتیاں ہوئیں، فی الحال اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔
یہ بھی پڑھیں ڈی آئی جی کی پراسرار موت۔گتھی سلجھی یا مزید الجھ گئی
وفاقی وزیر برائے ہوا بازی کا کہنا تھا 3 ماہ میں برطانیہ کے لیے پروازیں بحال ہو جائیں گی،
برطانیہ کے بعد یورپ اور امریکا کی پروازیں بحال کی جائيں گی۔

