اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ڈی آئی جی کی پراسرار موت۔گتھی سلجھی یا مزید الجھ گئی

4e0405ad f106 438b 848d 79076f0b2ed9

ڈی آئی جی کی پراسرار موت۔گتھی سلجھی یا مزید الجھ گئی

کوہسار نیوز خصوصی رپورٹ

پنجاب پولیس نے ابتدائی تفتیش میں نامور شاعر ڈی ائی جی شارق جمال کی پراسرار موت کو طبعی قرار دے دیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ضروری کارروائی کے بعد زیر حراست لڑکی اور اس کے ساتھیوں کو بھی رہا کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض ذرائع کے مطابق پولیس نے ابھی تک خاتون سے تفتیش جاری رکھی ہوئی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں بہاولپوریونیورسٹی کے4اساتذہ ۔11 طالب علم منشیات دھندے میں ملوث نکلے

 

ورثا نے بھی طبعی موت کے پولیس موقف کو تسلیم کر لیا ہے، تاہم اس قدر جلد نتیجہ اخذ کرنے پر یہ سوال اپنی جگہ گونج رہا ہے کہ ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والے ادب پسند اعلٰی افسر کی پراسرار موت کی گتھی سلجھ گئی ہے یا معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈی ائی جی شارق جمال کی لاش ایک فلیٹ سے ملی ہے جبکہ ان کا اپنا گھر ڈی ایچ اے فیز فور لاہور میں واقع ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی مرحوم کی لاش لاہور ان کے گھر سے نہیں ملی بلکہ فلیٹ نمبر 104 / A   ڈیفنس کی حدود سے ملی ہے۔

یہ بھی پڑھیں عالمی جونیئر سکوائش چیمپئن شپ کے سیمی فائنل میں حمزہ خان کی شاندار فتح

جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب  جائے وقوعہ یعنی فلیٹ سے ان کی میت ہسپتال لے کر انے والی خاتون اور ایک مرد کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔جن سے پوچھ گچھ کی گئی تاہم ابتدائی تفتیش کے بعد ہی شارق جمال کی موت کو طبعی قرار دے دیا گیا۔جبکہ  پوسٹ مارٹم کے بعد ان کا جسد خاکی ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں ڈی آئی جی کی پراسرار موت۔گتھی سلجھی یا مزید الجھ گئی

 

مرحوم ڈی ائی جی کے ورثا نے بھی موت کو طبعی قرار دیتے ہوئے مزید قانونی کارروائی سے انکار کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے دوران جسمانی اعضاء کے نمونے لیے گئے ہیں تا ہم ان کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں ملا ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ لاش  اسپتال شفٹ کرتے ہوئے شارق جمال کے ناک اور منہ پرخون کے آثار پائے گئے تھے۔

 

زیر حراست خاتون نے پولیس کو کیا بیان دیا ؟

پولیس کے مطابق ڈی ائی جی شارق جمال کو ہسپتال لانے والی خاتون نے بیان دیا ہے کہ شارک جمال کی طبیعت ذہنی تناؤ کی ادویات لینے کی وجہ سے خراب ہوئی۔خاتون کے مطابق طبیعت خراب ہونے پر شارق جمال نے پانی پیا اور پھر اس کے بعد کولڈ ڈرنک بھی پی لی۔ رات ساڑھے 12 بجے طبیعت زیادہ خراب ہونے پر ہم انہیں ہسپتال لے ائے۔

 

شارق جمال ہائی پروفائل مقدمات کی تفتیش کرتے تھے

شارق جمال لاہور میں ڈی ائی جی انویسٹی گیشن کے عہدے پر تعینات رہ چکے ہیں انہوں نے مشہور زمانہ موٹروے کیس کی تفتیش بھی مکمل کی تھی جس میں ایک خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھااور پھر تین مہینے کی تحقیقات کے بعد شارق جمال ملزم عابد ملہی تک پہنچ گئے تھے۔اس کیس میں عابد ملی کو عدالت نے سزائے موت سنا دی ہے ۔شارق جمال کو پیشوارانہ صلاحیت کی بنیاد پر ہائی پروفائل کیسز دیے جاتے تھے ۔اور ڈی ائی جی ٹریفک لاہور کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں اور جلد ہی انہیں گریڈ 21 میں ترقی ملنے والی تھی۔تاہم ان دنوں وہ او ایس ڈی تھے اور کسی عہدے پر کام نہیں کر رہے تھے۔

شارق جمال شاعر اور کالم نگار تھے

7af07e4c 6a9b 4d99 bfb8 86d33ee999da

پراسرار موت کا شکار ہونے والے شارق جمال ادب سے بے پناہ لگاؤ رکھتے تھے

وہ ایک اچھے شاعر اور کالم نگار تھے جبکہ ایک انگریزی اخبار کے لیے کالم بھی لکھتے تھے۔

ان کی شاعری کے دو مجموعے "آتش زیر پا” اور "فسانہ کون و مکاں” شائع ہو چکے ہیں۔
ان کی ایک غزل کا شعر بہت مشہور ہوا
مجھ کو اب کیسے پا سکے گا کوئی
وقت تھا اور گزر گیا ہوں میں


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481