اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بہاولپوریونیورسٹی کے4اساتذہ ۔11 طالب علم منشیات دھندے میں ملوث نکلے

بہاولپوریونیورسٹی کے4اساتذہ ۔11 طالب علم منشیات دھندے میں ملوث نکلے

بہاولپوریونیورسٹی کے4اساتذہ ۔11 طالب علم منشیات دھندے میں ملوث نکلے

تعلیمی اداروں میں منشیات کا زہر کس تیزی سے پھیل رہا ہے اور کس طرح نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اس حوالے سے خبریں تو آئے روز آتی ہی رہتی ہیں۔

مگر درخشاں روایات کی حامل ملک کی ایک اہم جامعہ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے منشیات سکینڈل نے ملک کے طول و عرض میں کروڑوں والدین اور طلبہ و طالبات کو لرزا کر رکھ دیا ہے جہاں یونیورسٹی کے چار اساتذہ اور 11 طالب علم اس کالے اور مکروہ دھندے کے میں پائے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ بہاولپور یونیورسٹی کے چیف سیکیورٹی آفیسر  سے مبینہ طور پر دس گرام آئس، جنسی ادویات اور دو عدد موبائل فون سے یونیورسٹی کی طالبات اور دیگر کی سینکڑوں نازیبا ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ ڈائریکٹر فنانس ابوبکر بھی آئس سمیت گرفتار ہوئے تھے ۔یونیورسٹی سے متعلقہ افراد بالخصوص طلبہ و طالبات کے والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مزید تشوشناک امر یہ ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا امیج تباہ کرنے میں اس کے محافظ سیکیورٹی انچارج میجر ریٹائرڈ اعجاز اکرم نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔مادر علمی میں منشیات کے دھندے کا اسکینڈل سامنے آیا تو پولیس نے تحقیقات کی، جس کے نتیجے میں ہوشرباحقائق سامنے آئے اور سیکیورٹی انچارج کے علاوہ مختلف ڈیپارٹمنٹس کے سربراہ اور پروفیسر بھی اس سکینڈل میں ملوث پائے گئے۔

download 1فائل فوٹو۔۔

 

گینگ کا سرغنہ یونیورسٹی کا خزانچی ابوبکر ہے

پولیس ذرائع کے مطابق گینگ کا سرغنہ یونیورسٹی کا خزانچی ابوبکر ہے، جو مختلف شعبوں کے اساتذہ کے ساتھ مل کر طلبہ و طالبات کے ذریعے منشیات کی خرید و فروخت کا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوران تفتیش یونیورسٹی سے باہر پارٹیز کے انعقاد اور طالبات کے ساتھ نازیبا حرکات کا بھی انکشاف سامنے آیا ہے۔

 

ابتدائی تفتیش کے دوران پولیس نے یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو حراست میں لیا اور پھر مزید مخبری ملنے کے بعدچیف سیکیورٹی افسر اعجاز اکرم پر نظر رکھی گئی۔ مشکوک حرکات اور شواہد کی بنیاد پر اسے گرفتار کیا گیا تو اس کے تانے بانے دیگر پروفیسرز سے جا ملے۔مزید تفتیش پر معلوم ہوا کہ یونیورسٹی کے 11 طالب علم بھی اس مکروہ گینگ کا حصہ ہیں۔

 

طالبات کو بلیک میل کرنے کا مکروہ دھندا

 

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش کچھ ایسے ثبوت بھی منظر عام پر آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح طالبات کو نمبروں کا لالچ دے کر انہیں اس مکرو دھندے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تفتیش کو اگر ٹھوس بنیادوں پر اگے بڑھایا گیا

اور کسی سیاسی یا غیر سیاسی مداخلت اور اثر رسوخ کو خاطر میں نہ لایا گیا تو ملک کے مستقبل میں زہر گھولنے والوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے اور اس تفتیش کو ماڈل بنا کر دیگر تعلیمی اداروں میں جاری منشات کے اس دھندے کو بھی بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ نگراں وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کو اس معاملے کی انکوائری رپورٹ پیش کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں ڈی آئی جی کی پراسرار موت۔گتھی سلجھی یا مزید الجھ گئی

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور درخشاں روایات اور شاندار ماضی کی حامل ایک بڑی یونیورسٹی ہے

جس میں 52 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔

یہاں سے فارغ التحصیل شخصیات ملک اور بیرون ملک اہم عہدوں پر فرائض انجام دے رہی ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481