اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

غزہ پر بنی تین فلمیں آسکر ایوارڈز کے لیے نامزد

غزہ پر بنی تین فلمیں آسکر ایوارڈز کے لیے نامزد

غزہ کی جنگ پر بننے والی تین فلمیں 98ویں اکیڈمی ایوارڈز کے لیے نامزد کر لی گئی ہیں۔ اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے آسکر نامزدگیوں کا اعلان کر دیا ہے، جن میں دو اسرائیلی اور ایک تیونسی فلم شامل ہے جو غزہ کے حالات پر مبنی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تیونس کی فلم The Voice of Hind Rajab کو بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے زمرے میں نامزد کیا گیا ہے۔ اس ڈاکومنٹری ڈراما کی ہدایت کاری کوثر بن ہنیہ نے کی ہے، جو پانچ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی کہانی بیان کرتی ہے، جو مبینہ طور پر گزشتہ سال غزہ میں اسرائیلی کارروائی کے دوران شہید ہو گئی تھی۔

فلم میں فلسطینی ہلالِ احمر کی امدادی کوششوں کو ڈرامائی انداز میں دکھایا گیا ہے، جس میں بچی کی اصل فون کال کی آڈیو بھی شامل ہے۔ اس آڈیو میں وہ اپنے جاں بحق اہلِ خانہ کے درمیان مدد کی اپیل کرتی سنائی دیتی ہے۔ فلسطینی ہلالِ احمر نے اس واقعے میں اسرائیلی افواج پر ایمبولینس کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔

یہ فلم ایوارڈز سیزن کے دوران فلسطین نواز فلم سازوں کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی، جبکہ معروف برطانوی یہودی فلم ساز جوناتھن گلیزر بھی اس کے شریک پروڈیوسرز میں شامل ہیں۔

اسی موضوع پر اسرائیل میں بنائی گئی مختصر فلم Butcher’s Stain کو بہترین لائیو ایکشن شارٹ فلم کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ اس فلم کی ہدایت کاری تل ابیب یونیورسٹی کے فلم اسکول سے وابستہ میئر لیونسن بلاؤنٹ نے کی ہے۔

فلم کی کہانی تل ابیب میں مقیم ایک عرب قصاب کے گرد گھومتی ہے، جس پر 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں اغوا ہونے والے اسرائیلی یرغمالیوں کے پوسٹر ہٹانے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ مرکزی کردار کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے تشدد، جبر اور طویل قانونی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ فلم اس سے قبل اسٹوڈنٹ اکیڈمی ایوارڈز میں بھی نمایاں کارکردگی دکھا چکی ہے۔

غزہ سے متعلق نامزد ہونے والی تیسری فلم اسرائیل کی مختصر دستاویزی فلم Children No More: Were and Are Gone ہے، جسے بہترین ڈاکیومنٹری شارٹ فلم کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ ہلا میڈالیا کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں مارچ 2025 سے تل ابیب میں شروع ہونے والے خاموش احتجاج کو دکھایا گیا ہے، جہاں مظاہرین غزہ میں مارے گئے بچوں کی تصاویر اٹھا کر ہفتہ وار اجتماع کرتے رہے، جو بعد ازاں ایک علامتی تحریک کی صورت اختیار کر گیا۔

دوسری جانب آسکر نامزدگی کے لیے پیش کی گئی بعض اسرائیلی فلموں کو مسترد کر دیا گیا، جن کے بارے میں بتایا گیا کہ ان کا مواد یکطرفہ اور پروپیگنڈا نوعیت کا تھا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481