بھارت کے سب سے زیادہ صاف ستھرا قرار دیے جانے والے شہر اندور میں آلودہ پینے کے پانی کے باعث اسہال کی وبا پھوٹ پڑی، جس کے نتیجے میں کم از کم 9 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 200 سے زائد افراد مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مدھیہ پردیش کے شہر اندور کے بعض علاقوں میں پینے کے پانی کی پائپ لائن میں رساؤ کے باعث پانی آلودہ ہو گیا، جس سے شہری بڑی تعداد میں بیمار ہو گئے۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی کہ متاثرہ افراد کو فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
بھارتی رکنِ پارلیمان کیلاش وجے ورگیہ نے آلودہ پانی پینے سے 9 اموات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
شہر کے چیف میڈیکل آفیسر مادھو پرساد ہسانی کے مطابق بھاگیرتھ پور کے علاقے میں پانی کی پائپ لائن میں رساؤ پایا گیا، جس کے نتیجے میں پینے کا پانی جراثیم سے آلودہ ہوا۔ لیبارٹری ٹیسٹ میں خطرناک بیکٹیریا کی موجودگی کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اموات آلودہ پانی کے باعث ہوئیں، تاہم حتمی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹو آفیسر شراون ورما نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں گھر گھر جا کر شہریوں کی سکریننگ کے لیے ڈاکٹروں کی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں جبکہ پانی کو صاف کرنے کے لیے کلورین کی گولیاں بھی تقسیم کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایک مقام پر پائپ لائن کے رساؤ کی نشاندہی کے بعد مرمت مکمل کر لی گئی ہے۔
شراون ورما کا کہنا تھا کہ اب تک 8 ہزار 571 افراد کی سکریننگ کی جا چکی ہے، جن میں سے 338 افراد میں جراثیمی بیماری کی علامات پائی گئیں۔
واضح رہے کہ اندور گزشتہ 8 برسوں سے بھارت کا سب سے زیادہ صاف ستھرا شہر قرار دیا جاتا رہا ہے اور قومی صفائی کی درجہ بندی میں مسلسل سرفہرست رہا ہے۔ حالیہ واقعے نے شہر میں صفائی اور بنیادی سہولیات کے دعوؤں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
