اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

صیہونی فورسز نے ابراہیمی مسجد مسلمانوں کے لیے بند کر دی

صیہونی فورسز نے ابراہیمی مسجد مسلمانوں کے لیے بند کر دی

صیہونی فورسز نے ابراہیمی مسجد مسلمانوں کے لیے بند کر دی

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی فورسز نے ہبرون (الخلیل) کے قدیمی شہر میں کرفیو نافذ کر دیا اور تاریخی ابراہیمی مسجد کو مسلمانوں کے لیے بند کر دیا تاکہ غیر قانونی یہودی آبادکار تعطیلات منا سکیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق کرفیو کی وجہ سے فلسطینی شہری اپنے گھروں تک نہیں پہنچ سکے اور بعض کو رشتہ داروں کے گھر رات گزارنی پڑی۔ یہ اقدام ابراہیمی مسجد کے باقی حصے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور اسے یہودی عبادت گاہ بنانے کی کوشش کے دوران کیا گیا۔

یہودیوں کے جشن سیرا ڈے کے موقع پر اسرائیل ہر سال ہبرون میں اپنی تاریخی موجودگی کے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے یہ اقدام کرتا ہے۔ تاریخی ابراہیمی مسجد 1994 میں تقسیم کی گئی تھی، جس میں 63 فیصد حصہ یہودی عبادت کے لیے اور صرف 37 فیصد حصہ مسلمانوں کے لیے مختص کیا گیا۔

اسرائیل مسجد کو سالانہ 10 اسلامی تعطیلات کے دوران مکمل طور پر بند کرتا ہے، جبکہ مسلمانوں کو ان تعطیلات کے دوران مکمل رسائی نہیں دی جاتی۔

ابراہیمی مسجد ہبرون کے قدیمی شہر میں واقع ہے، جس پر اسرائیلی فوج کا مکمل کنٹرول ہے اور یہاں تقریباً 400 غیر قانونی آبادکار مقیم ہیں، جن کی حفاظت کے لیے 1500 اسرائیلی فوجی موجود ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481