اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سائنسی تجربے میں 36 افراد برف میں زندہ دفن

سائنسی تجربے میں 36 افراد برف میں زندہ دفن

 

سائنسی تجربے میں 36 افراد برف میں زندہ دفن

اٹلی میں جنوری تا مارچ 2023 کے دوران ایک سائنسی تجربے میں 36 رضاکار کو برف میں دفن کیا گیا تاکہ نئی حفاظتی ڈیوائس SafeBakk کی افادیت کا جائزہ لیا جا سکے۔

SafeBakk ڈیوائس برف میں موجود ہوا کو براہِ راست سانس کی نالی تک پہنچاتی ہے، بغیر کسی ماؤتھ پیس یا اضافی آکسیجن کے۔ تجربے میں شامل تمام افراد کی عمریں 18 سے 60 سال کے درمیان تھیں اور وہ صحت مند تھے۔ ہر رضاکار کو 50 سینٹی میٹر گہرائی تک دفن کیا گیا، اور ان کی صحت مسلسل مانیٹر کی جاتی رہی۔

رضاکاروں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا:

  • گروپ A: SafeBakk ڈیوائس کے ساتھ
  • گروپ B: بغیر ڈیوائس

نتائج حیران کن تھے:

  • ڈیوائس والے گروپ نے اوسطاً 35 منٹ تک برف کے نیچے زندہ رہ کر سانس لی، جبکہ آکسیجن کی مقدار 80 فیصد تک کم ہو گئی تھی۔
  • بغیر ڈیوائس والے گروپ صرف 6 منٹ زندہ رہ سکے۔
  • ڈیوائس والے گروپ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار صرف 1.3 فیصد رہی، جبکہ بغیر ڈیوائس کے 6.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کے مطابق برفانی تودے کے نیچے زیادہ تر اموات پہلے 35 منٹ میں دم گھٹنے کی وجہ سے ہوتی ہیں، لہٰذا SafeBakk ڈیوائس امدادی ٹیموں کو متاثرہ افراد کو بچانے کا قیمتی وقت فراہم کرتی ہے۔

یہ تحقیق Journal of the American Medical Association (JAMA) میں شائع ہوئی ہے، اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی آئندہ برفانی حادثات میں انسانی جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481