اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

فلسطین کو ریاست ماننے پر امریکا ناراض

فلسطین کو ریاست ماننے پر امریکا ناراض

فلسطین کو ریاست ماننے پر امریکا ناراض

یونیسکو سماجی اور ثقافتی سطح پر تفریق کو فروغ دیتا ہے اور ایک ایسے نظریاتی ایجنڈے کا پرچار کرتا ہے جو ”امریکا فرسٹ“ خارجہ پالیسی سے متضاد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی اداروں میں امریکی شمولیت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ اس سے امریکا کے مفادات کو فائدہ ہو۔

امریکی اعلان کے مطابق یونیسکو سے باضابطہ علیحدگی کا اطلاق 21 دسمبر 2026 سے ہوگا، جس کے لیے ادارے کی ڈائریکٹر جنرل آدرے آزولے کو باضابطہ آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ترجمان نے الزام عائد کیا کہ یونیسکو فلسطینی ریاست کو تسلیم کر کے ایک سنگین غلطی کر چکا ہے، جو امریکی خارجہ پالیسی کے منافی ہے۔ ان کے بقول، یونیسکو میں اسرائیل مخالف جذبات کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے جس پر امریکا کو شدید تحفظات ہیں۔

یہ دوسری بار ہے کہ امریکا نے یونیسکو سے علیحدگی اختیار کی ہے۔ اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق دور کے سال 2017 میں بھی امریکا یونیسکو سے علیحدہ ہو چکا تھا، جبکہ اوباما دور حکومت میں یونیسکو کی جانب سے فلسطین کو رکنیت دیے جانے پر امریکا نے ادارے کی سالانہ 60 ملین ڈالر کی امداد بند کر دی تھی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481