اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ایلون مسک اور امریکی وزیر خارجہ لڑ پڑے

ایلون مسک اور امریکی وزیر خارجہ لڑ پڑے

ایلون مسک اور امریکی وزیر خارجہ لڑ پڑے

مسک، جو صدر ٹرمپ کی ہدایت پر وفاقی بیوروکریسی میں کمی کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں، انہوں نے روبیو پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عملے میں نمایاں کمی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، مسک نے روبیو سے کہا، ’آپ نے کسی کو برطرف نہیں کیا، شاید واحد شخص جسے آپ نے نکالا ہو، وہ محکمہ گورنمنٹ ایفیشنسی (DOGE) کا کوئی ملازم ہو، جو میرے ماتحت کام کرتا ہے۔‘

 

مارکو روبیو نے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 1500 سے زائد محکمہ خارجہ کے ملازمین نے رضاکارانہ طور پر جلد ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں مسک سے سوال کیا، ’کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں ان لوگوں کو دوبارہ بھرتی کر کے صرف اس لیے نکالوں کہ آپ کا شو اچھا لگے؟‘

 

مسک نے روبیو کی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے ایک طنزیہ جملہ کسا، ’آپ ٹی وی پر اچھے لگتے ہیں،‘ جس سے یہ تاثر ملا کہ سینیٹر کی مہارت صرف میڈیا بیانات تک محدود ہے۔

 

جب بحث مزید شدت اختیار کر گئی تو صدر ٹرمپ، جو خاموشی سے ہاتھ باندھے سن رہے تھے، درمیان میں کود پڑے۔ انہوں نے روبیو کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ ’زبردست کام کر رہے ہیں، وہ سفارتی دوروں، ٹی وی بیانات اور محکمہ کی نگرانی، سب کچھ ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔‘

 

صدر نے مزید وضاحت کی کہ ملازمین کی بھرتیوں اور برطرفیوں کا حتمی فیصلہ متعلقہ محکموں کے سربراہان ہی کریں گے، نہ کہ ایلون مسک کے DOGE کے تحت۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’DOGE صرف مشاورتی کردار ادا کر رہا ہے‘۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، یہ اجلاس اس وقت بلایا گیا جب مختلف محکموں کے سربراہان نے عملے میں کٹوتیوں سے متعلق مسک کے جارحانہ رویے پر شکایات کیں۔ وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور آفس آف لیجسلیٹو افیئرز کو بھی ریپبلکن قانون سازوں کی جانب سے ان اقدامات پر شدید عوامی ردعمل کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔

 

 

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481