اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

چین میں سامنے آنے والا نیا وائرس کتنا خطرناک ہے؟

چین میں سامنے آنے والا نیا وائرس کتنا خطرناک ہے؟

چین میں نیا وائرس پھیلنے کی خبروں سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیومن میٹاپنیو وائرس (ایچ ایم پی وی) نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور رپورٹس کی وجہ سے توجہ حاصل کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ چین کے ہسپتالوں میں ایچ ایم پی وی سمیت سانس کی بیماریوں کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین میں ایچ ایم پی وی، انفلوئنزا اے، نمونیا اور کووڈ 19 سمیت متعدد وائرس پھیلنے سے ہسپتالوں میں رش بڑھ گیا ہے اور سسٹم الرٹ موڈ پر آگیا ہے۔

پیر کو بھارت میں بھی ایچ ایم پی وائرس کے تین کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سے دو کیس بنگلورو اور ایک احمد آباد میں پایا گیا، تینوں کیسز دو سے آٹھ ماہ کے شیر خوار بچوں میں سامنے آئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بچوں اور انکے اہل خانہ کی کوئی حالیہ ٹریول ہسٹری نہیں تھی اور نہ ان میں کوئی علامات ظاہر ہوئیں۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ وائرس فلو اور سانس کے شدید مسائل کا باعث بن سکتا ہے جو خاص طور پر چھوٹے بچوں، بوڑھوں اور کمزور مدافعتی نظام والے لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے بتایا کہ یہ بیماری دسمبر کے آخر میں 14 سال اور اس سے کم عمر کے بچوں میں ظاہر ہوئی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481