اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بنگلہ دیش میں نیا منشور جاری کرنے کیلئے طلبہ تنظیم سرگرم

بنگلہ دیش،ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کیخلاف احتجاج، 6 افراد ہلاک

بنگلہ دیش میں حسینہ حکومت کو ٹھکانے لگانے والی طلبہ تنظیم نے ملکی آئین کو ” مجیبسٹ آئیں قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اگست 2024 میں ابھر کر سامنے آنے والی طلبہ تنظیم اینٹی ڈسکرمنیشن اسٹوڈنٹس موومنٹ نے 1972 کے آئین کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ طلبہ تنظیم نے اس آئین کو مُجیبسٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئین بھارتی جارحیت کو ہوا دینے کا سبب بنا ہے۔ دوسری جانب، بنگلہ دیش کی موجودہ عبوری حکومت نے کہا ہے کہ یہ ایک ذاتی اقدام ہے جس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بیگم خالدہ ضیا کی جماعت ’عوامی لیگ‘ نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے، تاہم یہ معاملہ بنگلہ دیش میں سیاسی تقسیم کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ مقامی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تحریک کو اگر عوامی حمایت ملتی ہے تو یہ ملک کی سیاسی صورت حال میں اہم تبدیلی لا سکتی ہے،اس تجویز کا مقصد 1972 کے آئین کو ختم کرنا اور ایک نیا دستور نافذ کرنا ہے جس کے تحت ملک کی سیاسی اور اقتصادی صورت حال میں تبدیلی لائی جا سکے۔

موجودہ آئین کی تشکیل بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد کی گئی تھی، اس لیے اس آئین میں تبدیلی کی تجویز کو تاریخی ورثے کی توہین کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ تنظیم نے آئین کی تشکیل نوکے لیے ایک نیا منشور بھی تیار کر لیا ہے جسے آج 31 دسمبر (منگل) کو جاری کیا جائے گا۔

طلبہ تنظیم کے اس مطالبے پر بی این پی نے اعتراض کرتے ہوئے اسے آئین کی تاریخ کو نظرانداز کرنے کے مترادف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر آئین میں کوئی خامی ہے، تو اسے درست کیا جا سکتا ہے لیکن اسے ختم کرنا فاشزم کے مترادف ہوگا۔ دوسری جانب، بنگلہ دیش کی موجودہ عبوری حکومت نے اس تجویز سے اپنے آپ کو الگ کر لیا ہے اور کہا کہ یہ ایک ذاتی اقدام ہے جس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دریں اثنا سابق وزیراعظم اور حسینہ واجد کی سخت سیاسی حریف بیگم خالدہ ضیا کی جماعت نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481