اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

برطانیہ نے دو بھارتیوں کو دیئے گئے اعزازات واپس لے لئے

برطانیہ نے دو بھارتیوں کو دیئے گئے اعزازات واپس لے لئے

برطانیہ نے دو بھارتیوں کو دیئے گئے اعزازات واپس لے لئے

برطانوی بادشاہ چارلس سوم نے ملک میں بھارتی نژاد کمیونٹی کی دو نمایاں شخصیات کو دیئے جانے والے اعزازات واپس لے لیے ہیں۔

رامندر سنگھ رینجر کو 2015 میں برطانوی کاروباری ماحول اور ایشیائی کمیونٹی کیلئے گراں قدر خدمات انجام دینے پر، برطانوی سلطنت کا تیسرا سب سے بڑا اعزاز دی کمانڈر آف دی برٹش ایمپائر (سی بی ای) دیا گیا تھا۔رامندر سنگھ رینجرز کنزرویٹو پارٹی کے رکن ہیں۔ انہوں نے اشیائے صرف کی کمپنی سن مارک قائم کی تھی۔ اعزاز کے نظام کو متنازع بنانے پر ان سے اعزاز واپس لیا گیا۔

برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا دارالامرا کے رکن اور برطانیہ کی نمایاں بھارتی نژاد شخصیت سے بھی اعزاز واپس لے لیا گیا۔ ہندو کمیونٹی اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے پر انیل کمار بھانوٹ کو جون 2010 میں دی آفیسر آف دی برٹش ایمپائر ایوارڈ دیا گیا تھا۔ انیل کمار بھانوٹ ہندو کونسل یو کے سے منسلک ہیں۔ رامندر سنگھ رینجرز کے ترجمان نے ملک الزبتھ دوم کی طرف سے دیا گیا کمانڈر آف دی برٹش ایمپائر کا اعزاز واپس لینے کو غیر منصفانہ قدم قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ شاہ چارلس کے اس فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا۔

درالامرا نے پارلیمانی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے متعلق تحقیقات گزشتہ سال مکمل کی تھی اور یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اعزازات ضبط کرنے کے لیے بنائی جانے والی برطانوی کابینہ کی کمیٹی نے اعزازات منسوخ کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی۔

پبلک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ شاہ چارلس نے رامندر سنگھ رینجر کو کمانڈر آف دی برٹش ایمپائر مقرر کرنے کا اعزاز واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اُن کا نام متعلقہ رجسٹر سے نکال دیا جائے گا۔ رامندر سنگھ رینجر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جن باتوں پر یہ اعزاز واپس لینے کا اعلان کیا گیا ہے اُن باتوں پر وہ بہت پہلے معافی مانگ چکے ہیں۔ متعلقہ ادارے نے بتایا ہے کہ کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے پر یا کسی اور طریقے سے اعزاز کو بدنام کرنے والی سرگرمی میں ملوث ہونے کی صورت میں اعزاز واپس لیا جاسکتا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481