اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آسٹریلیا میں جو کرکٹ کھیلی وہ اب ماضی بن چکی، محمد رضوان

آسٹریلیا میں جو کرکٹ کھیلی وہ اب ماضی بن چکی، محمد رضوان

 

بلاوایو میں پری سیریز پریس کانفرنس میں محمد رضوان نے کہا کہ بطور پروفیشنل آپ کو اس طرح کی چیزوں کےلیے تیار رہنا ہوتاہے، آسٹریلیا کےخلاف سیریز سے ملنے والا اعتماد اس سیریز میں بھی برقرارکھنے کی کوشش کریں گے۔

 

قومی ٹیم کے کپتان نے مزید کہا کہ انشاء اللّٰہ یہاں بھی اچھا پرفارم کرنے کی کوشش کریں گے، چیلنج یہ ہے کہ ہم ایک نوجوان ٹیم کے ساتھ آئے ہیں، جن کےلیے یہ اچھا موقع ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ سینئر کھلاڑیوں کی جگہ پورا کرنا آسان نہیں ہے، امید ہے کہ اس سیریز سے پاکستان کو نئے سپر اسٹارز ملیں گے۔

 

محمد رضوان نے یہ بھی کہا کہ ساؤتھ افریقا کےخلاف سیریز میں ٹیم کو ایک شکل میں لے کر آئیں گے، کوشش کریں گے کہ اس سیریز سے چیمپئنز ٹرافی کے لئے کچھ نہ کچھ حاصل کریں۔

 

انہوں نے کہا کہ سیریز میں چیلنجز ہوتے ہیں، جیسے کہ پچ اور کنڈیشنز، ہوم ٹیم کو ان کا فائدہ ہوتا ہے، ہمارے نوجوان کھلاڑی ڈومیسٹک اور شاہینز میں پرفارم کرکے آئے ہیں۔

 

قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ عاقب جاوید ایک زمانے سے ہیڈ کوچنگ کر رہے ہیں، جو چیز مجھے اچھی لگی وہ یہ ہے کہ آتے ہی عاقب بھائی نے کہا کہ آسٹریلیا میں جو چیزیں کی ہیں انہیں ہی لے کے جائیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ عاقب جاوید نے کہا کہ وہ زیادہ چیزوں کو تبدیل نہیں کریں گے، جہاں ضرورت ہوئی وہ کریں گے، ہیڈ کوچ کے پاس 1992ء ورلڈ کپ کا تجربہ بھی ہے، جو ہمارے ساتھ شیئر کریں گے۔

 

محمد رضوان نے کہا کہ عاقب پہلے ہمارے بولنگ گروپ شاہین، حارث، احمد دانیال کے ساتھ کام کر چکے ہیں، امید ہے کہ ان چیزوں سے ہمیں بہت فائدہ ہو گا۔

 

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے کپتانی کر رہا ہوں، مگر ڈومیسٹک اور کلب کرکٹ کی کپتانی میں فرق ہوتا ہے، فرنچائز اور انٹرنیشنل کرکٹ کی کپتانی تقریباً ملتی جلتی ہے مگر انٹرنیشنل میں پریشر زیادہ ہوتا ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ میں خوش نصیب ہوں کہ تمام کھلاڑی ایسے کھیل رہے ہیں جیسے وہ خود کپتان ہوں، میرا تمام اسکواڈ ہی کپتان ہے، سینئر کھلاڑیوں کو آرام دے کر ہم نے نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا۔

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481