اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بنگلادیش کے صدارتی آفس سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹادی گئی

بنگلادیش کے صدارتی آفس سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹادی گئی

بنگلادیش کے صدارتی آفس سے ملک کے بانی اور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے والد شیخ مجیب الرحمان کی تصویر ہٹادی گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کے معاون خصوصی محفوظ عالم نے تصدیق کی ہےکہ ڈھاکا میں صدر کی سرکاری رہائش گاہ اور دفتر بنگابھبن میں موجود دربار ہال سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹادی گئی ہے۔

ایک روز قبل عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کے معاون خصوصی کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد حسینہ واجد حکومت کے خلاف طلبہ تحریک کے اہم رہنما محفوظ عالم نے فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ ‘ 71 کے بعد کے فاشسٹ شیخ مجیب کی تصویر دربار ہال سے ہٹادی گئی ہے، یہ ہمارے لیے شرم کی بات ہےکہ ہم 5 اگست کے بعد ان کی تصاویر بنگا بھبن سے نہیں ہٹاسکے’۔

محفوظ عالم کا کہنا تھا کہ ‘شیخ مجیب اور ان کی بیٹی نے بنگلادیشی عوام کے ساتھ جو کچھ کیا، 72 کے غیر جمہوری آئین سے لے کر قحط، اربوں کی منی لانڈرنگ اور ہزاروں مخالفین کے ماورائے عدالت قتل تک، اس کے لیے عوامی لیگ کو معافی مانگنی چاہیے۔ اس کے بعد ہی ہم 71 سے پہلے کے شیخ مجیب کی بات کرسکتے ہیں، لیکن معافی مانگنے اور فاشسٹوں کے ٹرائل کے بغیر کوئی مفاہمت نہیں ہوگی’۔

 

صدارتی آفس سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹانے پر بنگلادیش میں مخالفت میں بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے اس کی مذمت بھی کی ہے۔اپوزیشن جماعت بی این پی نے بھی اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔

بی این پی کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری جنرل روح الکبیر رضوی نے اس عمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئےکہا ہےکہ 15 اگست 1975 کو شیخ مجیب کے قتل کے بعد خوندکر مشتاق احمد نے بھی صدارتی دفتر سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹادی تھی لیکن بعد میں ضیا الرحمان نے تصویر واپس لگوادی تھی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481