اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

خالدہ ضیا نے جیل سے رہائی کے بعد پہلا بیان جاری کردیا

خالدہ ضیا نے جیل سے رہائی کے بعد پہلا بیان جاری کردیا

خالدہ ضیا نے جیل سے رہائی کے بعد پہلا بیان جاری کردیا

بنگلادیش کی سابق وزیراعظم اور شیخ حسینہ دور اقتدار کی اپوزیشن رہنما خالدہ ضیا نے جیل سے رہائی کے بعد پہلا بیان جاری کردیا۔

خالدہ ضیا نے اپنے ویڈیو پیغام میں بنگلادیشی عوام پر زور دیا کہ وہ ایسے جمہوری بنگلادیش کی تعمیر کریں جہاں تمام مذاہب کا وقار برابر ہو۔

انکا کہنا تھا کہ آپ موجودہ تمام تر صورتحال میں میری صحتیابی کےلیے دعا کرتے رہے، میں اللّٰہ کے فضل و کرم سے آج آپ کے ساتھ بات کرنے کے قابل ہوں۔ ہم آج اس فاشسٹ حکومت سے آزادی حاصل کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ میں اس دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔

خالدہ ضیا کا کہنا تھا کہ ہمیں اس جیت کے بعد نیا بنگلادیش تعمیر کرنا ہے جہاں طلبہ و نوجوان ہماری امید ہوں۔

انہوں نے مذہبی اقلیتوں پر حملوں سے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے جمہوری بنگلادیش کی تعمیر کرنی ہے جہاں تمام مذاہب کی عزت ہو، نوجوان اور طلبہ ایسا ممکن بنائیں گے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ایسا بنگلادیش بنانا ہے جہاں امن، ترقی و خوشحالی ہو، جہاں بدلے کی آگ اور نفرت موجود نہ ہو۔

خالدہ ضیاء بنگلہ دیش کی پہلی اور بینظیر بھٹو کے بعد مسلم دنیا کی دوسری خاتون وزیراعظم بنی تھیں

واضح رہے کہ کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کرنے والی وزیراعظم شیخ حسنیہ نے عہدے سے مستعفی نئی دہلی فرار ہوگئیں۔

بنگلادیشی آرمی چیف نے ملک میں صدر سے مشاورت کے بعد عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کیا تھا جبکہ صدر نے خالدہ ضیا اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی رہائی کا حکم بھی دیا تھا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481