اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

رانا سعید دوشی کا نیا مجموعہ غزل "آگ میں اجالا ہے”

IMG 20240119 205859 509

معروف شاعر رانا سعید دوشی کا نیا مجموعہ غزل "آگ میں اجالا ہے” زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ چکا ہے۔

رمیل ہاؤس آف پبلیکیشنز کے زیر اہتمام شائع ہونے والے 160 صفحات پر مشتمل اس مجموعے میں 115 غزلیں شامل ہیں۔

رانا سعید دوشی وہ خوش قسمت شاعر ہیں جن کے اشعار نہیں پوری پوری غزلیں زبان زد عام ہیں۔ ان کی درج ذیل غزل دیکھیں

کیوں کرتا ہے کم ظرفوں سے تو تکرار سمندر
جیسے گزرے خاموشی سے وقت گزار سمندر

آج نہ جانے دوں گا تجھ کو اپنی آنکھ سے باہر
دھاڑیں مار سمندر، چاہے ٹھاٹھیں مار سمندر

جتنی آسانی سے میں نے تجھ کو پار کیا ہے
کیا تو ایسے کر سکتا ہے مجھ کو پار سمندر؟

میں سیراب کروں صحراؤ میری آنکھ میں آؤ
پیاس تمہاری ہے ہی کتنی بس دو چار سمندر

یا پھر یہ غزل۔۔۔

صحرا کے ذرے آنکھ سے گیلے نکلتے ہیں
نشے میں میرے اشک نشیلے نکلتے ہیں

بانسوں کے جنگلوں سے گزرتی ہے میری سانس
تب جا کے چار بول سریلے نکلتے ہیں

اے شہر کرگساں! ہمیں آنکھیں عزیز ہیں
ان کو بچا کے اب کسی حیلے نکلتے ہیں

رانا سعید دوشی کی یہ غزل تو اردو دنیا کی معروف غزل ہے۔۔۔

کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا
میں کم شناس مروت ميں مارا جاؤں گا

میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میں
پھر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا

مجھے بتایا ہوا ہے مری چھٹی حس نے
میں اپنے عہدِ خلافت میں مارا جاؤں گا

مرا یہ خون مرے دشمنوں کے سر ہوگا
میں دوستوں کی حراست ميں مارا جاؤں گا

 

رانا سعید دوشی کی نظموں کا مجموعہ بھی جلد منظر عام پر آ رہا ہے۔

راشد عباسی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481