Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

علی امین گنڈا پور کو بوتل کا نشان ملنے پر سوشل میڈیا طوفان

علی امین گنڈا پور کو بوتل کا نشان ملنے پر سوشل میڈیا طوفان

الیکشن کمیشن کی جانب پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈا پور کو بوتل کا انتخابی دیئے جانے پر سوشل میڈیا پر آگیا۔

 

معنی خیز تبصرے ہو رہے ہیں جب کہ پی ٹی آئی کے حامی اسے گنڈاپور پر حملہ تصور کر رہے ہیں۔

 

ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے علی امین گنڈا پور کی گاڑی سے 2016 میں اسلحہ اور شراب کی بوتل برآمد ہوئی تھی

 

جس پر ان کے خلاف اسلام آباد میں مقدمہ درج ہوا تھا۔

 

پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہ ملنے کے سبب پارٹی کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں الگ الگ انتخابی نشان دیئے گئے ہیں۔

 

علی امین گنڈا پور جو ڈیرہ اسماعیل خان سے الیکشن لڑ رہے ہیں انہیں ریٹرننگ افسر نے بوتل کا نشان دے دیا۔

 

یہ خبر عام ہوئی تو سوشل میڈیا صارفین نے اسے 2016 میں علی امین گنڈا پور کی گاڑی سے مبینہ طور پر برآمد شراب کی بوتل سے جوڑ دیا۔

 

بعض سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے حکام نے گنڈا پور کے ساتھ شرارت کی ہے

 

جب کہ کچھ کے خیال میں یہ پی ٹی آئی رہنما پر ذاتی حملہ ہے۔

 

علی امین گنڈا پور این اے 44 ڈیرہ اسماعیل خان سے امیدوار ہیں۔

 

یہ مولانا فضل الرحمان کا بھی حلقہ ہے لیکن مولانا فضل الرحمان کے کاغذات این اے 43 سے بھی جمع ہیں جہاں بادشاہ خان پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481