اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

غزہ میں اسرائیلی بمباری، مزید دو صحافی جاں بحق

غزہ میں اسرائیلی بمباری، مزید دو صحافی جاں بحق

غزہ کی پٹی پر ہونے والی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں حمزہ وائل الدحدوح اور مصطفیٰ ثریا نام کے دو مزید صحافی جاں بحق ہوگئے۔

اسرائیل نے پچھلے تین ماہ کے دوران 79 صحافیوں کو ہلاک کیا ہے۔ زیادہ تر صحافی اسرائیلی بمباری اور گولہ باری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

مصطفیٰ ثریا ’اے ایف پی‘ کیلئے ویڈیو سٹرینگر کی حیثیت سے اور حمزہ الدحدوح الجزیرہ کے ساتھ کام کرتے تھے۔

 

دونوں صحافیوں کو اسرائیلی بمبار طیاروں نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ کار میں سفر کرتے ہوئے جا رہے تھے، تو ان کی کار کو نشانہ بنایا گیا۔

حمزہ وائل الدحدوح کے والد وائل الدحدوح بھی ایک سینیئر صحافی ہیں اور الجزیرہ کے بیورو چیف کے طور پر غزہ میں کام کرتے ہیں۔

حمزہ کے والد الدحدوح بھی حال ہی میں ایک ایسی ہی بمباری کے نتیجے میں زخمی ہوئے تھے تاہم ان کی جان بچ گئی۔
اس سے قبل حمزہ الدحدوح کے خاندان کے تین افراد ایک اور بمباری کی نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

ان میں حمزہ کی والدہ اور دو چھوٹے بھائی تھے۔ اس طرح اس صحافی خاندان کے کل چار افراد اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن چکے ہیں جبکہ دیگر کئی صحافیوں کے خاندان بھی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنائے گئے ہیں۔

نیویارک میں قائم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ 31 دسمبر تک اس جنگ کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے بمباری کے نتیجے میں 77 صحافیوں کو ہلاک کیا ہے۔ کسی بھی جنگ کے دوران صحافیوں کا اتنی بڑی تعداد میں نقصان پہلہ مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جن میں سے 70 کا تعلق فلسطین سے، 4 کا تعلق اسرائیل سے اور 3 کا تعلق لبنان سے ہے۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481