Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پرویز خٹک سمیت کسی کو بلے کے نشان کی پیشکش نہیں کی، الیکشن کمیشن

پرویز خٹک سمیت کسی کو بلے کے نشان کی پیشکش نہیں کی، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین کے چیئرمین پرویز خٹک کو بلے کے نشان کی پیشکش کی تردید کردی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے چیئرمین پی ٹی آئی پارلیمینٹیرین پرویز خٹک سمیت کسی کو بھی انتخابی نشان ”بلے“ کی پیشکش نہیں کی گئی۔

اس سے قبل پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین کے چیئرمین پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ انتخابی نشان کی کوئی اہمیت نہیں، نشان جو بھی ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،

مجھے بلا دینے کی آفر کی گئی تھی لیکن میں نے یہ کہہ کر مسترد کیا تھا کہ مجھے

کسی اور کے نشان پر الیکشن نہیں لڑنا۔

پرویز خٹک نے کہا کہ عوام کی بڑی تعداد ہمارے ساتھ آرہی ہے، کافی سیٹوں پر ہمارے آزاد امیدوار ہیں، ہمارا منشور تیار ہوچکا ، چند دن میں اعلان کریں گے۔

سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت کے ساتھ اداروں کو بھی ٹھیک کیا،

وفاق نے ہمارے بہت سے حقوق ضبط کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لوگوں کو بانی پی ٹی آئی بے وقوف سمجھتا ہے،

صوبے کے لوگوں کو کہتا ہوں غلط فہمی میں نہ رہیں، سیاسی لوگ

اپنے لیے میدان دیکھتے ہیں،جب میں نے اپنی پارٹی بنائی تو لوٹا کہا گیا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481