اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

انگریزی کی محبت میں ہم نے بچوں سے تخلیقی صلاحیت چھین لی

cbcb0c2d 8786 4735 a47b 6dd0c54c4e24 jpg

فاطمہ قمرپاکستان قومی زبان تحریک

ملاحظہ کیجٰے صوفی غلام مصطفی تبسم کی بچوں کے لئے لکھی گئ اردو میں خوبصورت نظم!

منےکی ماں نے
انڈا ابالا

ہنڈیا میں ڈالا
دو منٹ گزرے!
ڈھکنا اٹھایا
انڈا نہ پایا
چمچہ تھا ٹیڑھا
اوند ھی تھی تھالی!
ہنڈیا تھی خالی!
قسمت تھی کھوٹی!
روکھی تھی روٹی!
گھرمیں کسی نے روٹی نہ کھائی!
منے کے انڈے!
تیری دھائی!
منے کی خالہ!
منےکی اماں!
منے کے بھائی!
جی بھر کے روئے!
بھوکے ہی سوئے!
(صوفی غلام مصطفی تبسم)

کیا پاکستانی بچوں کے لئے تحریر کردہ ان نظموں کا متبادل بچوں کو انگریزی میں رٹہ لگوا کر پڑھائی جانے والی نظمیں
Twinkle twinkle little star
ba ba black ship

Humpty dumpty sat on a wall
ہو سکتی ہیں؟

ہمارے مشاہیر کی بچوں کے لئے تحریر کردہ نظمیں ،وہ نظمیں تھیں جو بچے کو علم کی طرف ‘ مطالعے کی طرف مائل کرتی تھی. ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلاء بخشتی تھی. ان میں تجسس اور تحقیق کا دروازہ کھولتی تھیں .ان کی معصومیت اور بچپنے کو قائم رکھتی تھی. اپنے ماحول سے اور رشتوں سے جوڑتی تھی.ہمیں یاد ہے کہ جب ہم نے نظم ” ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ ” اپنی نصابی کتب میں پڑھی تو وہ نظم اتنی اچھی لگی کہ ہم نے اس شاعر کی بچوں کے لئےتحریر کردہ نظمیں ” جھولنے” خرید کر پڑھی اور اسے ایک ہی نشست میں ختم کرڈالا!

مذکورہ بالا نظم ہی سے اندازہ کرلیں کہ اس نے ایک بچے کے ساتھ معاشرے کے کتنے رشتوں کو جوڑ دیا اور اس کی پہچان کرادی. لیکن افسوس انگریزی کیnursery rhyme نے پاکستانی بچوں سےکی ساری تخلیقی صلاحیتیِیں چھین کر اسے رٹہ باز’ نقال ‘ اور ٹیوشن باز ‘ علم بیزار اور مطالعے سے دور کردیا! اپنی تہذیبی اقدار پر فخر کرنے کی بجائے ندامت اور احساس کمتری کا خوگر بنادیا. نہ صرف ہماری اقدار کی پامالی کی بلکہ انسانی رشتوں کی بے حسی کو بھی فروغ دیا! کوئی محرومی سی محرومی ہے !
افسوس

کار رواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا!

.


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481