فاطمہ قمرپاکستان قومی زبان تحریک
ملاحظہ کیجٰے صوفی غلام مصطفی تبسم کی بچوں کے لئے لکھی گئ اردو میں خوبصورت نظم!
منےکی ماں نے
انڈا ابالا
ہنڈیا میں ڈالا
دو منٹ گزرے!
ڈھکنا اٹھایا
انڈا نہ پایا
چمچہ تھا ٹیڑھا
اوند ھی تھی تھالی!
ہنڈیا تھی خالی!
قسمت تھی کھوٹی!
روکھی تھی روٹی!
گھرمیں کسی نے روٹی نہ کھائی!
منے کے انڈے!
تیری دھائی!
منے کی خالہ!
منےکی اماں!
منے کے بھائی!
جی بھر کے روئے!
بھوکے ہی سوئے!
(صوفی غلام مصطفی تبسم)
کیا پاکستانی بچوں کے لئے تحریر کردہ ان نظموں کا متبادل بچوں کو انگریزی میں رٹہ لگوا کر پڑھائی جانے والی نظمیں
Twinkle twinkle little star
ba ba black ship
Humpty dumpty sat on a wall
ہو سکتی ہیں؟
ہمارے مشاہیر کی بچوں کے لئے تحریر کردہ نظمیں ،وہ نظمیں تھیں جو بچے کو علم کی طرف ‘ مطالعے کی طرف مائل کرتی تھی. ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلاء بخشتی تھی. ان میں تجسس اور تحقیق کا دروازہ کھولتی تھیں .ان کی معصومیت اور بچپنے کو قائم رکھتی تھی. اپنے ماحول سے اور رشتوں سے جوڑتی تھی.ہمیں یاد ہے کہ جب ہم نے نظم ” ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ ” اپنی نصابی کتب میں پڑھی تو وہ نظم اتنی اچھی لگی کہ ہم نے اس شاعر کی بچوں کے لئےتحریر کردہ نظمیں ” جھولنے” خرید کر پڑھی اور اسے ایک ہی نشست میں ختم کرڈالا!
مذکورہ بالا نظم ہی سے اندازہ کرلیں کہ اس نے ایک بچے کے ساتھ معاشرے کے کتنے رشتوں کو جوڑ دیا اور اس کی پہچان کرادی. لیکن افسوس انگریزی کیnursery rhyme نے پاکستانی بچوں سےکی ساری تخلیقی صلاحیتیِیں چھین کر اسے رٹہ باز’ نقال ‘ اور ٹیوشن باز ‘ علم بیزار اور مطالعے سے دور کردیا! اپنی تہذیبی اقدار پر فخر کرنے کی بجائے ندامت اور احساس کمتری کا خوگر بنادیا. نہ صرف ہماری اقدار کی پامالی کی بلکہ انسانی رشتوں کی بے حسی کو بھی فروغ دیا! کوئی محرومی سی محرومی ہے !
افسوس
کار رواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا!
.
