اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مشاعروں کے لیے سخت ضابطہ اخلاق وضع کرنا ناگزیر ہے

Picsart 26 01 03 04 55 27 592

 

مہذب معاشروں میں شاعر کا منصب ہمیشہ ایک حساس مفکر ، دانش ور، معیاری زبان کے پیش کار اور اپنی تہذیب کے علمبردار کا رہا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک سنجیدہ فکر شاعر کا جمالیاتی اظہار صرف اس کی ذات تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے عہد کے انسان کی نمائندگی کرتا ہے، اپنی تاریخ و ثقافت کو غیر محسوس انداز میں مرتب کرتا ہے، زبان کی آبیاری کرتا ہے، وجودی ، سماجی اور کائناتی مسائل کو گرفت میں لاتا ہے، معاشرے کی حقیقی تصویر دکھانے کے ساتھ ساتھ ایک متوازی اور خوابناک دنیا تخلیق کرتا ہے جس میں ایک باشعور قاری پناہ لے سکے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں علم و ادب سے وابستگی کی شرح کم ہونے، سکولوں اور کالجوں میں اردو پڑھانے والے اکثر مدرسین کے بے ذوق ہونے، نصاب کی غیر متوازن تشکیل اور بالخصوص عملی زندگی میں ناکام رہنے والے مقبول عوام شعرا کے سچے / جھوٹے قصوں کے باعث شاعر کا امیج کبھی زیادہ مثبت نہیں رہا اور اب رہی سہی کسر سوشل میڈیا اور جامعات کے اسٹیج پر "وائرل” ہونے کے جنون نے پوری کر دی ہے اور یوں اس معتبر اور اہم منصب کو تماشا بنا دیا ہے۔

حیرت تو اس بات پر ہے کہ سنجیدہ غزلوں کے نام پر ہنستے ہوئے نیم مزاحیہ اور گھٹیا اشعار سنائے جاتے ہیں اور سامعین بھی دانت نکال کر داد دے رہے ہوتے ہیں۔ اردو کا لیکچرر ہونے کے ناتے میرے لیے سب سے بڑی اذیت اور شرمندگی کا مقام وہ ہوتا ہے جب کالج کے طلبہ کلاس میں، وائرل ویڈیوز کے ذریعے سنے ہوئے غیر معیاری اشعار سنا کر ان کی ادبی قدر و قیمت پوچھتے ہیں، شاعری کی اہمیت اور ضرورت پر سوال اٹھاتے ہیں یا اپنے امتحانی پرچوں میں تشریح کی ضرورت کے تحت بطور حوالہ ایسے ہی رکیک اشعار لکھ دیتے ہیں۔ وہاں یہ سمجھانا ایک کٹھن چیلنج بن جاتا ہے کہ معتبر ادب کیا ہے اور یہ وائرل ہونے والا سطحی مواد ادب کیوں نہیں ہے۔ اس رجحان نے عوامی ذہنوں میں شاعر کے امیج کو ایک "دانشور” سے بدل کر محض ایک "مسخرہ” بنا دیا ہے۔ جب سنجیدہ شعرا کا یہ حال ہے تو آج کل مزاحیہ شاعری کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اس پر کچھ لکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔

جامعات کی انتظامیہ اور سرکاری/عوامی مشاعروں کے منتظمین پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مشاعروں کے لیے سخت ضابطہ اخلاق وضع کریں۔ کم از کم تعلیمی اداروں کی جانب سے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ فحش اور غیر اخلاقی کلام پیش کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

مشاعروں میں سیٹیاں بجانے اور ہلڑ بازی پر مکمل پابندی ہونی چاہیے تاکہ ادب کا تقدس بحال ہو سکے۔ وقت آ گیا ہے کہ ادبی روایت کو زندہ کیا جائے جہاں تالیاں شاعر کی بیہودگی پر نہیں بلکہ اس کے فن کی بلندی پر بجتی تھیں۔

سعید شارق۔۔ لیکچرر (اردو)
فیڈرل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ،H-8، اسلام آباد


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481