اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ترک پارلیمنٹ کے باہر خود کش حملہ اور فائرنگ

ترک پارلیمنٹ کے باہر خود کش حملہ اور فائرنگ

ترک پارلیمنٹ کے باہر خود کش حملہ اور فائرنگ

انقرہ: ترکیہ کے دارالحکومت میں پارلیمنٹ کے نزدیک مبینہ خودکش حملہ آور نے خود کو بارودی مواد سے اُڑا لیا جس کے بعد علاقہ فائرنگ کی آوازوں سے گونج اُٹھا۔

ترک پارلیمنٹ کے باہر خود کش حملہ اور فائرنگ

ترک پارلیمنٹ کے باہر خود کش حملہ اور فائرنگ

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سرکاری سطح پر اس بات کی تصدیق کردی گئی کہ پارلیمنٹ کے نزدیک دھماکے کی زوردار آواز خود کش حملہ تھا جو آج پارلیمنٹ میں ہونے والے اجلاس کے آغاز سے چند گھنٹوں قبل ہوا۔

دھماکے کی نوعیت اور مواد سے متعلق متضاد خبریں موصول ہورہی ہیں جس پر سیکیورٹی فورسز کے حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

ادھر ترک وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دو دہشت گردوں نے وزارت داخلہ کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی جس میں سے ایک نے خود کو دھماکے سے اُڑالیا اور دوسرے کو گرفتار کرلیا گیا۔

پارلیمنٹ کے آس پاس سے کئی مشکوک پیکٹس ملے جن میں بارودی مواد بھرا ہوا تھا اور دہشت گردوں نے اجلاس سے قبل انھیں دھماکے سے اُڑانے کا منصوبہ بنایا تھا۔

مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آوروں کو پارلیمنٹ میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش میں 2 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تاہم سرکاری سطح پر تاحال دھماکے میں کسی کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی تاحال تصدیق نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں امریکی ایوان نمائندگان نے حکومتی اخراجات کا بل منظور کرلیا

جائے وقوعہ پر ایمبولینسوں کو آتے اور جاتے دیکھاجا سکتا ہے جب کہ قریبی اسپتالوں میں ایمرجنسی بھی نافذ کردی گئی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ زوردار دھماکے کے بعد علاقہ گولیوں کی آواز سے گونجتا رہا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خودکش حملے کے بعد فائرنگ ہوئی جو مبینہ طور پر خودکش حملہ آور کے ساتھیوں اور پولیس کے درمیان ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں عیسائی لڑکی کے قاتل مسلمان لڑکے کو 25برس قید

ابھی کسی شدت پسند تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم ترکیہ میں

ہونے والے اس نوعیت کے حملوں میں زیادہ تر علیحدگی پسند کرد جماعت ملوث رہی ہے

جس کے خلاف ترک فوج شام میں آپریشن بھی کر رہی ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481