طوفان دانیال کے نتیجے میں آنے والے قیامت خیز سیلاب کے بعدلیبیا میں اب تک 10 ہزار افراد لاپتہ ہیں۔
عالمی ادارے ریڈ کراس نے امدادی سامان اور ہزاروں باڈی بیگز لبیا بھیجے ہیں 10 ستمبر کو آنے والے طوفان کے بعد سیلاب میں اب تک ہلاکتوں کے مختلف اعدادوشمار سامنے آئے ہیں۔
لیبیائی حکام نے تصدیق کی ہے کہ کم سے کم 4 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں ، لیکن آزاد ذرائع کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے تین گنا ہوسکتی ہے ۔ گذشتہ روز خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اموات 40 ہزار کو چھو سکتی ہیں ۔لیبیا کے مشرقی شہروں بن غازی اور مصراتہ میں آئی سی آر سی کی فرانزک ٹیمیں مقامی حکام اور ہلال احمر سوسائٹی کے ساتھ مل کر مرنے والوں کی تدفین کا انتظام کر رہی ہیں۔
آفت سے متاثرہ ہزاروں خاندانوں کی مدد کے لیے ادویہ، خوراک، ابتدائی طبّی امداد کی کٹس اور گھریلو سامان جیسی ضروری اشیاء بھیجی جارہی ہیں۔ طوفان نے ملک میں برسوں سے جاری تنازعات سے پہلے ہی مشکلات سے دوچار لوگوں کو اورمتاثر کیا ہے۔ مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور لوگ لاپتا پیاروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
۔قبل ازیں لیبیا میں تارکینِ وطن کی بین الاقوامی تنظیم (آئی او ایم) نےکہا کہ دانیال طوفان کی وجہ سے ملک کے شمال مشرق میں واقع سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں 38,640 سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔آئی او ایم نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ذرائع کے مطابق 5,000 سے زیادہ افراد کو مردہ تصور کیا جاتا ہے۔
ان میں سے 3،922 اموات کا اسپتالوں میں اندراج کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ نے لیبیا میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صورت حال کو "تباہ کن” قرار دیتے ہوئے سات کروڑ دس لاکھ ڈالر سے زیادہ کے عطیات جمع کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ "884،000 افراد میں سے کم سے کم 250،000 افراد کی انتہائی فوری ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
Thousands of people are missing after the catastrophic floods in Libya,لبیا میں قیامت خیز سیلاب کے بعد ہزاروں افراد لاپتہ

