مری میڈیا سوسائٹی،وومن امپاورمنٹ سوسائٹی اور مینٹل ہیلتھ سوسائٹی کے تحت کوہسار یونیورسٹی مری میں ایک روزہ سمینار کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی ملک کے معروف موٹیویشنل سپیکر ڈاکٹر جاوید اقبال تھے۔
ڈاکٹر جاوید اقبال نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی بہترین تربیت پر کام کرنا ہمارا اولین فریضہ ہونا چاہیے۔ بچے کی پیدائش کے بعد 36 ماہ انتہائی اہم ہوتے ہیں جس میں بچہ سب کچھ سیکھتا ہے۔
بچوں کی تربیت کے لیے پہلی درس گاہ ماں اور باپ ہوتے ہیں اس لیے ان دونوں کا ایک بات پہ متفق ہونا ضروری ہے اور بچوں کے سامنے سب سے پہلے تو ایک دوسرے کی عزت کرنا، ایک دوسرے کی بات سننا ضروری ہے، بچہ سب سے زیادہ دیکھ کر سیکھ رہا ہوتا ہے لہذا پہلے تو والدین اور ساتھ رہنے والوں کوجیسے مشترکہ خاندانی نظام ہے اپنے ہر عمل کے ساتھ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بچہ یہی سب کچھ مستقبل میں کرےگاجو دیکھ رہا ہے ۔خواہ آپ اس کو کتنا بھی کسی بات سے کیوں نہ روک لیں جو اس نے دیکھا ہے وہ ہی کرنا ناگزیر فطرت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوں بھی بچے کوجس بات سے مسلسل روکا جا رہا ہوتا ہے وہ اس کے لیے تجسس بن جاتی ہے اور وہ اپنے تجسس کی تسکین یا کھوج کے لیے اس عمل کو دہراتا ہے۔ اپنے بچوں کی تربیت اور معاشرے میں رہنے کے اصول سے بھی ان کو آگاہ کیاجائے۔سمینار میں طلبہ و طالبات کی جانب سے سوالات بھی کئے گئے ۔ اس موقع پرڈاکٹر محمود نے ڈاکٹر جاوید اقبال کے کام سے تمام طلبہ کوتفصیلاً آگاہ کیا،مسز وقار بخاری نے بھی سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جاوید اقبال کے کام کو سراہا ۔اس موقع پر وائس چانسلر کوہسار یونیورسٹی مری سید حبیب بخاری نے آنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور سوسائٹیز کی اس بہترین کاوش کو سراہا۔



