اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پنجاب آرٹس کونسل ، مری میں شاندار یومِ اِقبالؒ

IMG 20251014 WA0080

پنجاب آرٹس کونسل ، مری میں شاندار یومِ اِقبالؒ

1980ء کی دھائی کو جہاں مری کے لئے حکُومتی افسران کی سرپرستی میں کنکرِیٹ کا پہاڑ بنانے کا نُقطۂ آغاز کہا جا سکتا ہے، وہاں 1987ء میں پَنجاب آرٹس کونسل ، مری کے قیام کو یہاں کے پتھرِیلے رویّوں کو ثقافتی پروگراموں کے ذریعے مُہذّب بنانے کی ایک بہترِین اور کامیاب سرکاری کوشِش بھی قرار دِیا جا سکتا ہے ۔ مری کی صدیوں پر مُشتمِل ثقافتی تارِیخ میں جِتنے تفرِیحی ، ثقافتی ، تعلِیمی ، دِینی ، تخلِیقی ، ادبی اور فنُونِ لطِیفہ کے پروگرام آرٹس کونسل مری نے مُنعقد کروائے ہیں ، اِس کی نظِیر نہِیں مِلتی ۔ اپنی تخلِیق کی قریباً چار دہائیوں میں اِس اِدارے کی اِنتظامیہ نے نہ صِرف مُقامی و عِلاقائی گُمنام فنکاروں اور تخلِیق کاروں کو منظرِ عام پر لا کر اُن کی حوصلہ افزائی کی ہے بلکہ مُلک گِیر اور عالمگِیر شہرت کے حامِل فنکاروں کو بھی یہاں پذِیرائی مِلتی رہی ہے ۔

شکِیل احمد اور ابرار عالم سے لے کر انعم خالد تک یہاں تعینات ہونے والے افسران نے خُود کو مری کی تہذِیب و ثقافت کا نہ صِرف حِصّہ بنایا بلکہ اِس وقت مری آرٹس کونسل ہی واحد اِدارہ ہے جو یہاں کی تہذِیب و ثقافت ، تارِیخ ، تعلِیم ، ادب اور فنُونِ لطِیفہ کا مُحافِظ اور نُمائندہ خیال کِیا جا سکتا ہے ۔

یُوں تو ماضی میں مری آرٹس کونسل نے اِس سے زیادہ بہترِین اور باوقار پروگرام مُنعقد کِیے ہیں لیکن نو نومبر 2025ء کو یومِ اِقبالؒ کے طور پر منائے جانے والے پروگرام نے ایک تارِیخ رقم کر دِی ہے کِیُونکہ دِن کی روشنی کے صِرف چھ گھنٹوں میں پروگرام کی دعوت ، شُرکاء سے فُون پر مُسلسل رابطے ، اعزازی مہمانوں کے لئے راولپنڈی سے شِیلڈیں اور پینافلیکس بنوا کر منگوانا ، اِقبالؒ کی سالگِرہ کے کیک اور ریفریشمِنٹ کا اہتمام کرنا اور سب سے بڑھ کر پروگرام میں مری کے ہر طبقۂ فِکر کی شِرکت کو مُمکِن بنانا آسان کام نہ تھا لیکِن یہ سب وقت پر ہُوا ۔ دراصل یہ سب محترمہ انعم خالد (ڈِپٹی ڈائریکٹر) ، جناب اشرف میکن (اسِسٹنٹ ڈائریکٹر) ، احمد رضا (اسِسٹنٹ ڈائریکٹر) اور دِیگر سٹاف کا دفتری ذِمّہ داریوں کا بھرپُور مُظاہرے اور اہلِ مری سے مضبُوط سماجی تعلق کا ثبُوت تھا ۔ اِس موقع پر فاطمہ جناح کیڈٹ کالج ، پھپھڑِیل ، کوہسار کیڈٹ کالج ، نیو مری ، سینٹ ڈینِیز گرلز ہائی سکُول اور سرکاری سکُولوں کی اِنتظامیہ اور طلباء و طالِبات کی حیران کُن کارکردگی سامنے آتی ہے جو اُنہوں نے چھ گھنٹے کی تیّاری سے پیش کر کے پُورے پاکِستان میں سب سے زیادہ شرح تعلِیم(84 فِیصد) کا ٹھوس اور عملی ثبُوت دے دِیا۔
8 نومبر بوقت پونے تین بجے ایگزیکٹِو ڈائریکٹر آرٹس کونسل جناب غلام صغِیر شاہد نے حُکم جاری کِیا کہ ہم نے صُبح گیارہ بجے یومِ اِقبالؒ بھرپُور طریقے سے منانا ہے۔ اشرف میکن اور اُن کے ساتھیوں نے ساری رات جاگ کر صبح دس بجے تیّاری مُکمّل کر کے دِکھا دی. اِسی طرح 8 نومبر کو تِین بجے کے بعد اِطلاع مِلتے ہی پروگرام میں شامِل تمام پرائیویٹ اور سرکاری تعلِیمی اِداروں نے چھُٹّی کے دِن رات بھر جاگ کر بچوں کو ٹیبلو، مِلّی نغموں اور تقارِیر کی تیّاری کروا کے صبح آرٹس کونسل ہال میں حاضرِین سے بے پناہ داد وصُول کی۔ اِس موقع پر مری کے دِیگر تعلِیمی اِداروں کی طرح گورنمنٹ میُونسپل گرلز مِڈل سکُول، مری، گورنمنٹ میُونسپل گرلز مڈل سکُول، سنی بینک، گورنمنٹ مڈل سکُول، بانسرہ گلی، اور گورنمنٹ پرائمری سکُول، کھجُٹ کے 13 بچّوں کی پُراعتماد تقارِیر کو نظرانداز نہِیں کِیا جا سکتا، جِن میں سے کُچھ بچّوں کو حاضرِین نے بُلا بُلا کر ہزاروں رُوپےانعام دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ گورنمنٹ سکُولوں کی اِس بھرپُور شِرکت میں سنٹرل ایگزیکٹِو ایجُوکیشن آفِیسر محترمہ نُزہت کلثُوم شہزادی کی ذاتی دِلچسپی قابلِ فخر و ذِکر ہے کہ اُنہوں نے مری میں موجُود نہ ہوتے ہُوئے بھی اپنے حِصّے کا کام جناب بِلال حُسین (ڈِپٹی ایجُوکیشن آفیسر ، مردانہ، مری) کی مُعاونت سے بخُوبی کر کے دِکھایا ۔

مری کی صحافی برادری کے مرکزی نُمائندوں جناب عتِیق عباسی ، جناب بابر مُغل ، جناب راشد مُغل ، جناب تاج بُخاری اور جناب حنِیف تُرک نے اِس پروگرام کو اپنے اخبارات اور ٹی وی چینلز کی نشریات پر چلا کر چار چاند لگا دِئیے ۔

IMG 20251115 WA0151
اِس باوقار پروگرام میں زِندگی کے ہر شعبہ سے اہلِ مری کی بھرپُور شِرکَت کے باعث ہال اِتنا بھر گیا کہ بچّوں کو سِیڑھیوں پر بیٹھنا پڑا ۔
مرکزی انجُمنِ تاجران مری کے چیئرمین جناب مِرزا سُہیل بیگ نے اہلِ مری کی بھرپُور نُمائندگی کرتے ہُوئے کہا کہ آرٹس کونسل مری نے زِندگی کے ہر شعبے کی خُوبیوں کو اُجاگر اور محفُوظ کِیا ہے ۔ آج کے پروگرام کے شاندار اِنعقاد پر ہم آرٹس کونسل اِنتظامیہ مری کے ساتھ ساتھ لاہور سے آئے مہمانِ خصُوصی جناب غُلام صغِیر شاہد صاحب کے شُکر گُزار ہیں کہ وہ مری کے طلباء و طالِبات ، ادِیبوں ، صحافیوں اور اساتذہ کی صلاحیتوں کا اِس باوقار انداز میں اعتراف کرتے ہیں ۔
محترمہ شکِیلہ صابر نے یومِ اِقبالؒ پر اپنی نظم پیش کر کے داد وصُول کی ۔ جبکہ شاہد حسن ( سابق سپورٹس انسٹرکٹر ، کوہسار یُونِیورسِٹی ، مری) نے اِقبالؒ کا نعتیہ کلام پیش کر کے حاضرِین کی رُوحانی تسکِین کا اہتمام کِیا ۔
مری کی سرزمِین اِس لحاظ سے بہت زرخیز ہے کہ یہاں آنے اور یہاں سے جانے والے مہمانوں کی توقِیر کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ، کہ مری کے صاحبِ ثروت افراد جا بجا اِس کا عملی اِظہار کر کے اہلِ مری کا سر فخر سے بُلند کرتے ہیں ۔ تاج گرُوپ آف کمپنِیز کے مالک جناب فارُوق عباسی نے نہ صِرف اِقبالؒ کی شخصِیّت پر اپنے گراں قدر خیالات کا اِظہار کرتے ہُوئے اِقبالؒ کو پُوری دُنیا کا شاعر کہا بلکہ ایگزیکٹِو ڈائریکٹر جناب غُلام صغِیر شاہد کو کشمِیری شال کا تحفہ پیش کر کے مری کی روایات کی تجدِید کی ۔
پروگرام کے آخری مرحلے میں داخل ہوتے ہی حاضرِین کے لئے دانائی اور شعُور کے خزانوں کا مُنھ کھول دِیا گیا ۔ فاطمہ کیڈٹ کالج کے پرِنسِپل جناب آفتاب احمد نے اپنے خُطبۂ صدارت میں بتایا کہ اِقبالؒ کا سارا کلام دراصل قُرآنی تعلِیمات کی تفسِیر ہے اور پاکِستانی مُعاشرہ بِالکُل اُس سے اُلٹ سمت میں جا رہا ہے ۔ ہم نے جِس طرح اللّٰہ کے کلام کو مُردے بخشوانے کا ذریعہ سمجھ رکھا ہے اِسی طرح اِقبالؒ کا پیغام صِرف تحرِیر و تقرِیر میں ہی نظر آتا ہے. جِسے آج کے طلباء و طالِبات کے لئے عام فہم شرح کے ساتھ پیش کرنے کی ضرُورت ہے ۔ جِن مشرِقی و یورپی اقوام نے تراجم کے ذریعے کلام اللّٰہ اور کلامِ اِقبالؒ سے اِستفادہ کِیا ہے وہ آج بامِ عُروج پر خُود کو زِندگی کے ہر میدان میں نہ صِرف منوا رہی ہیں بلکہ اُنہوں نے مُسلمانوں کے سائنسی اور سماجی عُلُوم سے اِستفادے کے ساتھ ساتھ اُس کی حِفاظت اور فروغ و تروِیج کا اہتمام کِیا ہے اور ہم صِرف ” پِدرم سُلطان بُود” کا راگ الاپ رہے ہیں ۔
پَنجاب آرٹس کونسل کی خُوش بختی ہے کہ اُن کو نہ صِرف ایک عِلم و ادب دوست اور صاحبِ مُطالعہ سربراہ مُیسّر آیا ہے بلکہ اِقبالیات سے گہرا شغف اُن کی کلامِ اِقبالؒ سے مُرصّع گُفتگُو سے جھلکتا ہے ۔ ایگزیکٹِو ڈائریکٹر پنجاب آرٹس کونسل جناب غُلام صغِیر شاہد نے بتایا کہ جرمنی کی ہائیڈل برگ یُونِیورسِٹی نے اِقبال کے اعزاز میں "اِقبالؒ اُوفر” یعنی گوشۂ اِقبال بنا رکھا ہے ۔ اِقبالؒ صِرف ہمارا نہِیں بلکہ پُوری دُنیا کا شاعر اور عالمگِیر فلسفی بھی ہے جِس کا عکس اُن کی کِتاب "تشکِیلِ جدِید اِلہیٰاتِ اِسلامیہ”
( Six lectures on the Reconstruction of Religious Thoughts in Islam)
میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ جناب غُلام صغِیر شاہد نے ایک ماہرِ اِقبالیات کی طرح بتایا کہ اِقبالؒ کا کلام دراصل قُرآنی آیات ہی کا ترجمہ ہے۔ وہ تہجّد پڑھ کر جو لِکھتے وہ آج ہمارے لئے کلامِ اِقبالؒ کی صُورت میں محفُوظ ہے ۔ مری آرٹس کونسل اِنتظامیہ نے اِنتہائی کم وقت میں ایسے شاندار پروگرام کا اِنعقاد کِیا جِس کی کوئی مِثال نہِیں مِلتی ۔
جناب ایگزیکٹِو ڈائریکٹر نے یومِ اِقبالؒ میں حِصّہ لینے والے پچپن طُلباء و طالِبات کو نہ صِرف تحائف سے نوازا بلکہ فی کس پانچ ہزار رُوپے اِنعام دینے کا اعلان بھی کِیا ۔
یومِ اِقبالؒ کے آغاذ میں ایگزیکٹِو ڈائریکٹر کی آرٹس کونسل آمد پر فاطمہ کیڈٹ کالج اور کوہسار کیڈٹ کالج کے طُلباء و طالِبات نے اعزازی سلامی دے کر ایک شاندار روایت کی بُنیاد رکھی ۔
پروگرام کے اِختتام پر آرٹس کونسل نے اپنی باوقار اقدارکو نِبھاتے ہُوئے مری کی آٹھ درج ذیل ناموَر مُعزّز شخصیات کو اُن کی تعلِیمی و ادبی خِدمات کے باعث اعزازی شیلڈ سے نوازا ۔
1۔ جناب حافِظ مُحمّد آفتاب (پرِنسِپل: فاطمہ کیڈٹ کالج)
2۔ فارُوق عباسی(سماجی شخصِیّت)
3۔ جناب مِرزا سُہیل بیگ ( سابق نائب ناظم مری)
4۔ جناب پروفیسر مُحمّد اسلم کھوکھر(ماہرِ تعلِیم ، مُصنف)
5۔ جناب بِلال حُسین (ڈِپٹی ایجُوکیشن آفیسر مردانہ ، مری)
6۔ محترمہ شِیرِیں سرفراز (پرِنسِپل: سینٹ ڈینِیز گرلز ہائی سکُول ، مری)
7۔ محترمہ شکِیلہ صابر(سماجی شخصِیّت)
8۔ ملکۂ کوہسار ۔ مری کے اہلِ قلم ( مُصنّف و ماہرِ لِسانیات)۔
کِسی بھی عِلمی یا سماجی پروگرام کی نِظامت دراصل اُس کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے ۔ کئی پروگرام نِظامت کی طوالت کے باعث حاضرِین کے لئے اُکتاہٹ کا باعث بن جاتے ہیں لیکن محترمہ مہوِش گُلفراز عباسی صاحبہ کی اِنتہائی دانِشمندانہ ، مُختصر اور اِستقامت پر مبنی نِظامت کے باعث پروگرام کامیابی سے ہمکنار رہا ۔
کِسی بھی شاندار پروگرام میں اِنسانی کوشِشوں کے باعث غلطی کا اِمکان موجُود رہتا ہے ۔ یہاں بھی معمُولی غلطِیوں نے ہمارے کمزور اِنسان ہونے کا ثبُوت فراہم کر دِیا ۔ کُچھ طالِبات نے ایک مِلّی نغمہ (اے وطن پاک وطن) بطور کلامِ اِقبالؒ پیش کِیا ۔ یہ نغمہ معرُوف گُلوکار اُستاد امانت علی خان مرحُوم کی آواز میں قومی ترانے کے بعد پاکِستان کا سب سے معرُوف مِلّی نغمہ ہے جِسے دراصل مری کے معرُوف مؤرخ اور شاعر جناب پروفیسر کرم حیدری مرحُوم نے لِکھا تھا ۔ اِسی طرح دو طلباء نے اپنی تقارِیر میں دو اشعار کو اِقبالؒ کے نام سے پیش کِیا :

تُندیِ بادِ مُخالف سے نہ گھبرا اے عُقاب
یہ تو چلتی ہے تُجھے اُونچا اُڑانے کے لئے
(شاعر ۔ سیّد صادق حُسین بُخاری ۔ سیالکوٹ)

خُدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہِیں بدلی
نہ ہو جِس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلے کا
(شاعر ۔ مولانا ظفر علی خان)

عدمِ مُطالعہ اور لاعِلمی کی درج بالا صُورتحال مذکُورہ تعلِیمی اِداروں اور شعبۂ اُردُو کی سربراہان سے مُقتضی ہے کہ وہ تقارِیر کی تیّاری کے دوران میں تلفُّظ کی ادائیگی اور حوالہ جاتی تحقِیق کو ضرُور پیشِ نظر رکھیں ۔
اِس رپورٹ کا اِختتام جناب پروفیسر اسلم کھوکھر کے ساتھ باہمی تبادلۂ خیال کی تلخِیص کے بغیر نامُکمل نظر آتا ہے :
جِس شہر کی واحد یُونِیورسِٹی میں قومی زُبان کا شعبہ ختم کر دِیا جائے وہ اپنے مشاہِیر اور عُلُوم کا یہی حشر کریں گے ۔ بلکہ رفتہ رفتہ اِقبالؒ ، غالب ، سر سیّد حضرت شاہ ولی اللّٰہ ، مولانا ابوالکلام آزاد اور حضرت علامہ مشرِقی جیسے دیگر عِلمی و دِینی زعما کے ساتھ ساتھ عربی و فارسی میں موجُود عُلُوم کو بھی فراموش کر دِیا جائے گا تا کہ یہاں اِقبالؒ کی طرح غور و فِکر اور تدبّر کرنے والوں کی بجائے "دولے شاہ کے چُوہے” پیدا ہوں ۔ فورٹ وِلیم کالج کے ورثاء ستتّر برس سے ہمیں سائنسی عُلوم سے دُور رکھنے کے لئے کوشاں ہیں ۔ حالانکہ وہ بھی یہ جانتے ہیں کہ دُنیا کی کوئی قوم اپنی قومی زُبان میں تعلِیم حاصل کِیے بغیر کوئی دریافت اور ایجاد مُعاشرے میں نہِیں لا سکتی اور دُنیا کی دس بڑی ترقّی یافتہ اقوام کی سائنسی ترقّی اِس بات کی گواہ ہے کہ اگر دُنیا کی جدِید تحقِیقات کو ہم اپنی قومی و عوامی زُبان میں مُنتقِل نہِیں کرتے تو مزِید کئی صدیوں تک ہر قِسم کی غُلامی ہمارا مُقدّر رہے گی "۔

جناب انور عباسی مرحُوم نے کیا خُوب فرمایا تھا :

نہِیں گُونگا کہ ہے جو قُوّتِ گویائی سے عاری
وہی ہے بے زُباں یارو نہِیں جِس کی زُباں اپنی

 

امجد بٹ (کوہ مری)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481