Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اضافی تکیے کےساتھ سونے کے چھ فوائد کیا ہیں؟

اضافی تکیے کےساتھ سونے کے چھ فوائد کیا ہیں؟

اضافی تکیے کےساتھ سونے کے چھ فوائد کیا ہیں؟

کمر درد ، کولہوں اور ٹانگوں کے درد کیلئے مفید ، عرق النسا سے بچانے اور پرسکون نیند کا سبب بنتا ہے ۔۔آزما کر دیکھیں

اضافی تکیے کے ساتھ سونے کے چھ فوائد کیا ہیں ؟

اضافی تکیے کے ساتھ سونے کے چھ فوائد کیا ہیں ؟

کچھ لوگوں کو عادت ہوتی ہے۔۔۔۔چار چھ تکیوں کے ساتھ سوتے ہیں۔۔۔۔بیڈ پر اکیلے ہوں گے،لیکن ارد گرد تکیے۔۔۔پہلے تو تکیہ ساتھ لے کر سونے پر امی ابا یا کسی بزرگ سے ڈانٹ پڑتی تھی۔لیکن زمانہ جدید میں ماہرین کے مطابق ایک فوم کا تکیہ گھٹنوں کے درمیان رکھ کر سونے کے کئی فائدے ہیں۔کمر درد،گھٹنوں کے درد اور پیروں کی تکلیف کے لیے خاص کر فائدہ مند ہے۔

گھٹنوں کے نیچے ایک فوم کا نرم تکیہ کئی مسائل سے بچانے میں معاون ہو سکتا ہے۔

کروٹ لیتے ہوئے اسے گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا جائے تو یہ گھٹنوں اور جوڑوں کی تکلیف کے ساتھ ساتھ کولہوں کے درد سے بھی نجات دیتا ہے۔اور جب آپ گھٹنوں کے نیچے تکیہ رکھ کر سوتے ہیں تو یہ عمل ٹانگوں کی سطح باقی جسم سے کچھ بلند ہونے کی وجہ سے سر کی طرف خون کی گردش کو بہترکرتا ہے۔

اس عمل کے کرنے سے اعصاب پر دباؤ کم ہونے کی وجہ سے عرق النسا کے درد سے بھی افاقہ ہوتا ہے۔ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح سونے سے ریڑھ کی ہڈی سیدھی رہتی ہے اور خراٹے نہیں آتے یا بہت کم آتے ہیں۔
نیند بھی پرسکون آتی ہے۔۔کیوں کہ جب آپ درد کے احساس کے ساتھ سونے کے بجائے آرام دہ حالت میں سوئیں گے تو آپ بھرپور اور پرسکون نیند کا تجربہ حاصل کر سکیں گے۔

 

 

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481