اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

چین میں کورونا کہ بعد نئے وائرس کی یلغار. 170 اموات

کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ JN1 کتنا خطرناک ہے؟

چین میں کورونا کہ بعد نئے وائرس کی یلغار کے نتیجے میں متاثرہ مریضوں سے اسپتال بھر گئے,170 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں.نزلہ اور کورونا جیسی علامات کے ساتھ حملہ  آور ہونے والے وائرس کا نام ہیومن میٹاپنیو بتایا جا رہا ہے-

تفصیلات کے مطابق چین میں کورونا وائرس کے بعد ایک اور وائرس نے اپنا قہر ڈھا دیا، جس کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے اسپتالوں کا رخ کرلیا ہے، 170 سے زائد افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے نئے وائرس سے پیدا حالات کو عالمی طبی ایمرجنسی قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اس وائرس کا نام ہیومن میٹاپنیو وائرس (HMPV) جو لوگوں کو متاثر کررہا ہے، اس سے متاثر ہونے والوں کو نزلہ اور کورونا جیسی علامات کی شکایات ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چائنہ میں یہ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، اسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایچ ایم پی وی میں نزلے جیسی علامات عام ہیں اور یہ کورونا جیسی علامات بھی پیدا کر سکتا ہے۔ چائنا میں صحت سے متعلق حکام کے مطابق وائرس کے پھیلنے کے ساتھ ہی صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

 

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اسپتالوں میں وائرس سے متاثرہ افراد کی بھیڑ ہے، انٹرنیٹ صارفین کا کہنا ہے کہ انفلوئنزا، ایچ ایم پی وی، نمونیا اور کورونا وائرس پھیل رہا ہے۔ انٹرنیٹ پر صارفین کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا جارہا ہے کہ چائنا نے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے تاہم اس کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے نئے وائرس سے پیدا حالات کو عالمی طبی ایمرجنسی قرار دیا ہے، ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے جنیوا میں بتایا کہ نئے وائرس نے 18 ممالک میں 7834 لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ کووڈ19 وبا کی خوفناک یادیں اب بھی ذہن میں بالکل تازہ ہیں۔ 5 سال قبل اس وائرس نے پوری دنیا میں تباہی مچا دی تھی، اور اب چین میں ایک بار پھر نئے وائرس کا قہر دیکھنے کو مل رہا ہے۔

 

جو رپورٹس سامنے آ رہی ہیں ان میں بتایا جا رہا ہے کہ اسپتالوں اور شمشان گھاٹ میں بھیڑ لگی ہوئی ہے، یعنی ایمرجنسی جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ سائنسداں آرگنائزیشن کے مطابق عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے چین میں نئے وائرس کو عالمی طبی ایمرجنسی تسلیم کر لیا ہے۔ اس وائرس سے 170 لوگوں کی اموات بھی ہو گئی ہیں، حالانکہ سبھی مہلوکین چین میں ہی ہیں۔ پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آف انٹرنیشنل کنسرن (پی ایچ ای آئی سی)، جو ڈبلیو ایچ او کی ہی ایک کمیٹی ہے، اس کی جانب سے ایمرجنسی کو لے کر میٹنگ ہوئی تھی۔ کمیٹی چیف ڈیڈیر ہوسن نے بتایا کہ ایمرجنسی کے فیصلے کو سبھی کے اتفاق رائے سے لیا گیا ہے۔ پی ایچ ای آئی سی کا استعمال اب تک 6 مرتبہ کیا جا چکا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481